جواہرلال نہرو یونیورسٹی میں پرتشدد کارروائی پر ردعمل، فلمساز ، اداکاروں اور عوام کا یکساں ردعمل
نئی دہلی 6 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ہولناک اور دلسوز بربریت قرار دیتے ہوئے صنعت فلم سازی بشمول اداکاروں، فلمسازوں جیسے راجکمار راؤ، کیرتی سنن، انوراگ کیشب، سونم کپور آہوجہ وغیرہ نے صنعت فلمسازی کی نمائندگی کرتے ہوئے جواہرلال نہرو یونیورسٹی میں تشدد کی بیک زبان مذمت کی اور مطالبہ کیاکہ خاطیوں کو انصاف کے کٹھہرے میں کھڑا کیا جائے۔ جواہرلال نہرو یونیورسٹی میں اتوار کی رات تشدد پھوٹ پڑا جبکہ نقاب پوش افراد نے جو مسلح تھے اور ہاتھوں لاٹھیاں اور لوہے کی سلاخیں تھامے ہوئے تھے، اساتذہ اور طلبہ پر حملہ کیا اور یونیورسٹی کے احاطہ میں موجود جائیداد کو نقصان پہنچایا جس کی وجہ سے انتظامیہ پولیس کو طلب کرنے پر مجبور ہوگیا۔ پولیس نے احاطہ میں فلیگ مارچ کیا۔ کم از کم 28 افراد بشمول جے این یو طلبہ یونین کے صدر ایشے گھوش زخمی ہوگئے اور تقریباً دو گھنٹے تک یونیورسٹی کے احاطہ میں انتشار کا عالم پیدا ہوگیا۔ سونم کپور نے ٹوئٹر پر تحریر کیاکہ یہ صدمہ انگیز افسوسناک اور بزدلانہ واقعہ ہے۔ بے قصور افراد کو علانیہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ کشیب نے تصویریں شائع کیں کیوں کہ وہ جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے احاطہ میں داخل ہوگئے تھے اور دیکھ رہے تھے جبکہ بے قصور افراد پر حملہ کیا جارہا تھا۔ اُنھوں نے کہاکہ ہندوتوا کی دہشت گردی اب مکمل طور پر یہاں سرگرم ہے۔ راجکمار نے کہاکہ طلبہ اور اساتذہ پر حملے دلسوز ہیں۔ جواہرلال نہرو یونیورسٹی کا تشدد شرمناک، ہولناک اور دلسوز ہے۔ جو اِس کے ذمہ دار ہیں اُن کو سزا دینی چاہئے۔ کیرتی نے کہاکہ غیرانسانی تشدد اور جو کچھ یونیورسٹی میں پیش آیا وہ دلسوز ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ تشدد کبھی بھی کسی مسئلہ کا حل نہیں ہوتا۔ فلمساز النک کریتا سریواستو نے تحریر کیاکہ جمہوری طور پر منتخبہ حکومت جمہوری ڈھانچے میں اپنی کارکردگی کے لئے عوام کے سامنے جوابدہ ہوتی ہے۔ حکومت کی جانب سے طلبہ اور اساتذہ پر پرتشدد حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستعفی ہونے کے لئے تیار ہے۔ ہدایت کار و مصنف ریما کاگتی نے ٹوئٹر پر پیغام شائع کیاکہ وہ طلبہ اور ہندوستانی عوام کے ساتھ ہیں۔ حکومت ہند کے لئے یہ بے رحمی اور بربریت شرمناک ہے۔ اداکاروں سورا بھاسکر، شبانہ اعظمی، محمد ذیشان ایوب اور تاپسی پنو، فلمسازوں اپرنا سین، انوبھو سنہا اور بنسل مہتا بھی یونیورسٹی میں تشدد کی مذمت کرنے والوں میں شامل ہیں۔ سوراب نے تحریر کیاکہ اُن کی والدہ ایرا بھاسکر جواہرلال نہرو یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں، اُنھوں نے اپنے ٹوئٹر پر عوام پر سماجی ذرائع ابلاغ سے احاطہ تک پہونچنے کی اپیل کی ہے تاکہ حکومت اور دہلی پولیس پر دباؤ پڑسکے اور تشدد پر قابو پائیں۔ بعدازاں اُنھوں نے ٹوئٹر پر تحریر کیاکہ میری والدہ محفوظ ہیں۔ یونیورسٹی اب پرامن ہے۔ تمام گیٹس کھول دی گئی ہیں۔ اُنھوں نے شہریوں اور دہلی کے احتجاجیوں سے اظہار تشکر کیا جنھوں نے یونیورسٹی کے ساتھ ہمدردی کی۔