نیویارک ۔ اسرائیل اور جرمنی کے سفرا کا کہنا تھا کہ ہولوکاسٹ سے انکار پوری دنیا میں امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ یہ اس سلسلے میں دونوں ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک مشترکہ قرار داد پیش کی گئی،جس میں ہولو کاسٹ کے انکار کو جرم قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہود کے قتل عام کے مفروضے کو لے کر 193 رکنی جنرل اسمبلی میں پیش کردہ قرار داد کو بغیر رائے شماری کے پاس کرلیا گیا۔ اس دوران ایران نے خو د کو اس قرارداد سے الگ رکھا۔ اسمبلی نے سوشل میڈیا کمپنیوں سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ یہود مخالف آن لائن سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے موثر اقدامات کریں۔ جرمن سفیر انٹے لینڈرٹسے کا کہنا تھاکہ جنرل اسمبلی ان تاریخی حقائق سے انکار یا ان میں تحریف کے خلاف ایک مضبوط اور واضح پیغام بھیج رہی ہے۔ تاریخی حقائق کو نظر انداز کرنے سے اس طرح کے واقعات دوبارہ پیش آنے کا قوی خدشہ ہے۔ ہولوکاسٹ کی تاریخی حیثیت کو رد کرنا بین الاقوامی امن و سلامتی پر حملے کے مترادف ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی پیش کردہ قرار داد میں 27 جنوری کو ہولوکاسٹ کی یاد کا بین الاقوامی دن قرار دیا گیا ہے۔ اسرائیل میں جرمن سفیر سوزان واسم ریئنا اور جرمنی میں اسرائیلی سفیر جیریمی اسحاقاروف نے نیویارک میں میٹنگ سے قبل ایک مشترکہ اپیل بھی کی ہے۔