ہٹلر وقت کو مٹی میں ملادیتا ہے

   

ایران … فادر لینڈ کا نیا فادر بن گیا
ٹرمپ تنہا … کمزور سہاروں کی تلاش
وشوا گرو … ایران سے مدد لینے پر مجبور

رشیدالدین
’’اُلٹی ہوگئیں سب تدبیریں‘‘ ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملے اور جنگ کو ایک ماہ مکمل ہونے کو ہے لیکن ٹرمپ اور نتن یاہو کے ناپاک ارادوں کو کامیابی نہیں مل سکی۔ ایران کا بھرپور جوابی وار ٹرمپ اور نتن یاہو کے ساتھ نریندر مودی کیلئے شکست سے کم نہیں۔ مودی نے حملے سے عین قبل اسرائیل کا دورہ کرتے ہوئے ہر حال میں اسرائیل کی تائید کا اعلان کیا تھا۔ مودی نے ہندوستان کو مدر لینڈ اور اسرائیل کو فادر لینڈ کہا تھا لیکن ایک ماہ کی جنگ میں ایران نے کامیاب جنگی حکمت عملی کے ذریعہ یہ ثابت کردیا کہ وہ دنیا کے سپر پاور کے فادر ہیں۔ ایران کے جوابی حملوں کی تاب نہ لاکر امریکہ اور اسرائیل جنگ بندی کیلئے ہاتھ جوڑنے پر مجبور ہیں تو دوسری طرف خود ساختہ وشوا گرو نریندر مودی کو تیل اور گیاس کے لئے ایران کے صدر سے رحم کی اپیل کرنی پڑی۔ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت اور 180 سے زائد معصوم اسکولی بچوں کی ہلاکتوں پر مودی نے آج تک بھی ہمدردی اور تعزیت کے دو لفظ نہیں کہے۔ امریکہ ، اسرائیل اور مودی کو یقین تھا کہ محض چند گھنٹوں میں ایرانی حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے گا اور ایرانی قیادت کا حشر صدام حسین کی طرح ہوگا۔ علی خامنہ ای ، لاریجانی اور 30 سے زائد فوجی کمانڈرس کا صفایا کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ ایران گھٹنے ٹیک دے گا لیکن 40 سال سے تحدیدات کے دوران بچپن سے جوانی میں قدم رکھنے والے جیالوں نے نہ صرف اسرائیل بلکہ خلیج میں امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے دنیا کو حیرت زدہ کردیا۔ ٹرمپ اور نتن یاہو کے تمام منصوبے اور تدبیریں الٹی پڑگئیں اور سپر پاور کو جنگ سے نکلنے کیلئے کمزور سہاروں کی تلاش پر مجبور ہونا پڑا۔ ناٹو ممالک نے جب ٹرمپ کے منصوبہ میں شمولیت سے انکار کردیا تو پاکستان ، مصر اور ترکیہ جیسے کمزور سہاروں کے ذریعہ امن مساعی شروع کی گئی ۔ یہ تینوں ممالک امریکہ کے اسی طرح تابعدار ہیں جس طرح کے نریندر مودی ٹرمپ اور نتن یاہو کو مائی گڈ فرینڈ کہہ کر وفاداری کا بھروسہ دلاتے رہے۔ پاکستان کو جس انداز میں آگے کیا گیا وہ ٹرمپ کے کمزور موقف کا ثبوت ہے۔ جو ملک دہشت گردوں کی پناہ گاہ اور فیکٹری کے طورپر اپنی شناخت رکھتا ہے ، وہ آج امن کے مسیحا کے بھیس میں دنیا کے سامنے پیش ہورہا ہے ۔ ایسا ملک جو خود بدامنی اور داخلی انتشار کا شکار ہے، وہ دنیا کو امن کا درس کیا دے پائے گا۔ ٹرمپ اور نتن یاہو جنگ میں کچھ اس طرح پھنس چکے ہیں کہ باہر نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ ناٹو اور دیگر طاقتوں سے ٹرمپ نے مدد کی اپیل کی لیکن کوئی بھی ٹرمپ کو بھنور سے نکالنے تیار نہیں ہیں۔ ٹرمپ کی بوکھلاہٹ اس قدر بڑھ چکی ہے کہ انہوں نے ناٹو ممالک کو سنگین نتائج کی دھمکی دے ڈالی۔ ان حالات میں ٹرمپ کے پاس پاکستان ، ترکیہ اور مصر جیسے کمزور سہاروں کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ایران اپنی غیر معمولی فوجی طاقت کے مظاہرہ کے ذریعہ ایک تیسری طاقت یعنی سپر پاور کے طور پر ابھر رہا ہے۔ روس اور چین بھی ایران کے دفاعی مظاہرہ کے قائل ہوچکے ہیں اور اطلاعات کے مطابق ایران کے حملوں میں روس کی مدد شامل حال ہے۔ ایران نے جنگ بندی کے لئے امریکی شرائط کو مسترد کرتے ہوئے یہ پیام دیا کہ وہ مسلم ممالک میں پہلا سپر پاور بننے کی راہ پر گامزن ہے۔ جنگ کا خاتمہ جب کبھی بھی ہو ، دنیا کی طاقتوں کو ایران کی طرف بری نظر اٹھانے میں خوف محسوس ہوگا۔ امریکہ اور ناجائز مملکت اسرائیل کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب دونوں ممالک کو جنگ بندی کیلئے ہاتھ جوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ٹرمپ اپنی فطرت کے مطابق ایرانی قیادت سے مذاکرات کا جھوٹا دعویٰ کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے ایران کی قیادت ، فوجی جنرلس ، بحریہ ، فضائیہ اور میزائیل ٹکنالوجی کے صفایہ کا دعویٰ کیا ہے ۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب قیادت اور فوجی طاقت دونوں ختم ہوچکے ہیں تو پھر مذاکرات کیوں اور کس سے کریں گے ۔ ایک سے زائد مرتبہ ٹرمپ نے جنگ میں کامیابی کا بھی اعلان کیا لیکن درپردہ طور پر ایران سے امن کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ جاریہ جنگ میں مسلم نقطہ نظر کے اعتبار سے ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ ان تمام عرب ممالک کا بھرم چکنا چور ہوگیا کہ امریکہ ان کا محافظ ہے۔ سعودی عرب ، قطر ، متحدہ عرب امارات ، کویت ، بحرین اور عراق میں واقع امریکی ٹھکانوں کو تباہ کرتے ہوئے ایران نے مسلم سربراہان کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ایران کا خوف دلاکر امریکہ نے عرب ممالک میں اپنے فوجی اڈے قائم کرلئے اور تیل کے ذخائر پر کنٹرول کرنے لگا تھا۔ قطر نے حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کے لئے ایران سے ثالثی سے انکار کردیا۔ اب جبکہ امریکہ کے سپر پاور ہونے اور ناقابل شکست فوجی طاقت کا بھرم ٹوٹ چکا ہے، مسلم اور عرب ممالک کیلئے زرین موقع ہے کہ وہ امریکہ پر انحصار ختم کردیں اور اپنے ممالک سے امریکی فوجی ٹھکانوں کو اکھاڑ پھینکیں۔ ایران اور اسرائیل کا خوف دلاکر امریکہ نے گریٹر اسرائیل کی تشکیل کی ناپاک منصوبہ بندی کی ہے جس کے تحت کئی عرب ممالک کی سرزمین کو اسرائیل میں شامل کیا جائے گا۔ جنگ کی صورتحال میں ہندوستان کا کہاں کھڑا ہے ؟ وشوا گرو کس کے ساتھ ہیں ؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب مرکزی حکومت اور بی جے پی کے پاس نہیں ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی چاپلوسی نے نریندر مودی اس قدر آگے بڑھ گئے کہ دنیا میں ہندوستان کا وقار مجروح ہوگیا ۔ ہندوستان اپنی غیر جانبدار خارجہ پالیسی پر برقرار رہتا تو وہ جنگ بندی کیلئے ثالثی کے سلسلہ میں فریقین کو قابل قبول ہوتا۔ نریندر مودی نے ایران سے ہمدردی نہیں دکھائی لیکن ہندوستانی عوام کی تائید اور دیرینہ دوستی کی بنیاد پر ایران نے آبنائے ہرمز سے ہندوستان کے بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے دی ۔ یہ مودی کی نہیں عوام کی جیت ہے۔ جنگ میں شدت کے بعد جب تیل اور گیاس کا بحران پیدا ہوا تو نریندر مودی کو ایرانی صدر سے بات چیت کرنی پڑی۔ ایران نے ہزاروں سال سے تجارتی ، ثقافتی اور عوام سے عوام کے درمیان دیرینہ رشتوں کا لحاظ کرتے ہوئے ہندوستان کو بحران سے بچالیا جبکہ مودی نے راجیہ سبھا میں کورونا جیسے بحران کا اشارہ دے کر عوام کو ڈرادیا تھا۔
ہندوتوا ایجنڈہ نافذ کرتے ہوئے ملک کو ہندو راشٹر بنانے کی کوششوں کے تحت گجرات میں یکساں سیول کوڈ قانون کو نافذ کردیا گیا ہے۔ گجرات اسمبلی میں اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود یکساں سیول کوڈ قانون کو منظوری دی گئی ۔ بی جے پی اور سنگھ پریوار کے ایجنڈہ میں ملک میں یکساں سیول کوڈ کا نفاذ شامل ہیں۔ قومی سطح پر نفاذ میں بعض قانونی رکاوٹوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے بی جے پی نے اپنی زیر اقتدار ریاستوں سے یہ تجربہ شروع کیا ہے۔ گجرات ملک کی دوسری ریاست بن چکی ہے جہاں یکساں سیول کوڈ نافذ کیا گیا۔ ملک میں ہر شہری کے لئے یکساں قانون کی دہائی دیتے ہوئے اسلام اور شریعت کو نشانہ بنانے کی سازش ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یکساں سیول کوڈ صرف مسلمانوں اور عیسائیوں پر نافذ رہے گا جبکہ دیگر طبقات کو رعایت دی گئی ہے۔ شمال مشرقی ریاستوں کے قبائلی طبقات کیلئے بھی استثنائی قوانین تیار کئے گئے جس کے تحت انہیں اپنی تہذیب اور ثقافت کے تحفظ کا مکمل اختیار دیا گیا ہے۔ شریعت اسلامی کو نشانہ بناتے ہوئے ملک میں مسلمانوں کو محکوم اور دوسرے درجہ کے شہری کا احساس دلانا بنیادی مقصد ہے۔ فروری 2024 میں اتراکھنڈ میں یکساں سیول کوڈ قانون کو منظوری دی گئی تھی۔ نریندر مودی کی آبائی ریاست میں نفاذ کے ذریعہ دیگر ریاستوں کو ترغیب دینے کی کوشش ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ملک کی باقی بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں مرحلہ وار طور پر یکساں سیول کوڈ نافذ کیا جائے گا ۔ ہندوتوا کو جبراً نافذ کرنے کی کوششوں کو سپریم کورٹ میں اس وقت دھکا لگا جب وندے ماترم کے مسئلہ پر عدالت عظمیٰ نے وضاحت کردی ہے کہ وندے ماترم گانا لازمی نہیں بلکہ اختیاری ہے۔ اگر کوئی شخص وندے ماترم گانے سے انکار کرے تو اس کیلئے سزا کی گنجائش نہیں۔ چیف جسٹس سوریا کانت ، جسٹس جی باگچی اور جسٹس پنچولی پر مشتمل بنچ نے وندے ماترم سے متعلق حکومت کے سرکولر کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں پر اہم فیصلہ سنایا۔ انہوں نے واضح کردیا کہ وندے ماترم کے بارے میں درخواست گزاروں کو اندیشہ کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے احکامات پر مرکز کس حد تک عمل کرے گی اس بارے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ سپریم کورٹ نے بلڈوزر کارروائیوں کے خلاف فیصلہ سنایا لیکن بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں مسلمانوں کے خلاف بلڈوزر کارروائیاں جاری ہیں۔ اترپردیش حکومت مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز کارروائیوں میں سرفہرست ہے اور یوگی ادتیہ ناتھ کی حکومت چن چن کر دینی مدارس اور اداروں کو نشانہ بنارہی ہے۔ جنگ کی صورتحال پر جوہر کانپوری نے کیا خوب کہا ہے ؎
ہٹلر وقت کو مٹی میں ملادیتا ہے
وہ خدا ہے سرمغرور جھکا دیتا ہے