ہڑتالی ایام کی تنخواہ آر ٹی سی ملازمین کو 31 مارچ سے قبل ادائیگی

   

فینسی نمبرس کے لیے ای بڈنگ، محکمہ ٹرانسپورٹ کو ٹیکس ریونیو میں کمی: وزیر ٹرانسپورٹ
حیدرآباد۔ 29 جنوری (سیاست نیوز) وزیر ٹرانسپورٹ پی اجئے کمار نے کہا کہ آر ٹی سی ملازمین کو 31 مارچ سے قبل ہڑتالی ایام کی تنخواہ جاری کردی جائے گی۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے خیریت آباد کے ٹرانسپورٹ آفس میں نئے چیمبر کا افتتاح کیا۔ سکریٹری ٹرانسپورٹ سنیل شرما، سندیپ کمار سلطانیہ اور آر ٹی سی کے اعلی عہدیدار اس موقع پر موجود تھے۔ وزیر نے بتایا کہ گاڑیوں کے فینسی نمبر کے لیے ای بیڈنگ سسٹم کا آغاز کیا گیا ہے۔ فینسی نمبر کے ذریعہ حکومت کو آمدنی ہوتی ہے۔ گاڑیوں کو نمبر پورٹبلیٹی فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ 59 آن لائین خدمات فراہم کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی کے لیے چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو برانڈ امباسیڈر کی طرح ہیں۔ چیف منسٹر کی تصویر کے ساتھ عنقریب نئے نعرے بسوں پر شامل کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کارگو خدمات 10 فروری سے قبل شروع کی جائیں گی تاہم کارگو خدمات کی قیمتوں کا ابھی تعین نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک آر ٹی سی ڈپو کی ایک عہدیدار ذمہ داری قبول کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سنکرانتی کے ایک ہی دن آر ٹی سی کو 16 کروڑ 80 لاکھ روپئے کا فائدہ ہوا۔ میڈارم جاترا کے لیے 4 ہزار بسیں چلائی جارہی ہیں۔ 31 جنوری سے روڈ سیفٹی ہفتے کا آغاز ہوا جس کے تحت عوام میں ٹریفک قواعد کے بارے میں شعور بیدار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حادثات سے بچنے کے لیے ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کا استعمال کیا جانا چاہئے۔ ٹرانسپورٹ ڈپاٹمنٹ کے لیے بجٹ میں 1500 کروڑ مختص کرنے حکومت سے سفارش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی ملازمین کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ تین مہینوں میں ایک بھی ملازم کو معطل نہیں کیا گیا۔ آر ٹی سی کی کارکردگی مزید بہتر بنانے کے لیے مختلف اصلاحات نافذ کی جائیں گی۔ ملازمین کو آر ٹی سی انتظامیہ تنخواہیں ادا کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گاڑیوں کی خریدی میں کمی کے سبب حکومت کو ٹیکس ریونیو میں کمی واقع ہوئی ہے۔ معاشی ابتر صورتحال کا اثر محکمہ ٹرانسپورٹ پر پڑا ہے۔ حکومت کو محکمہ ٹرانسپورٹ سے 3 ہزار کروڑ کی آمدنی ہوتی ہے جبکہ محکمہ ٹرانسپورٹ کا خرچ 180 کروڑ ہے۔ خرچ کو مزید کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی پر چالان میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔