عدالت کا تحفظ کی فراہمی کی درخواست کے فوری سماعت سے انکار
نئی دہلی۔ 18 جون (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے سرکاری دواخانوں میں ڈاکٹروں کے تحفظ کی درخواست سے اختلاف کیا اور کہا کہ ڈاکٹروں نے جوکہ مغربی بنگال اور دیگر ریاستوں میں اپنی ہڑتال ختم کردی ہے، اس لئے اس معاملے پر جلد بازی میں سماعت کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ جسٹس دیپک گپتا اور جسٹس سوریا کانت پر مشتمل ایک بینچ نے مرکز کو ایک مجریہ نوٹس روانہ کرنے سے انکار کردیا ہے، لیکن ڈاکٹروں کے تحفظ کے مسئلہ کو برقرار رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس درخواست کی سماعت سے آج اتفاق کیا ہے کیونکہ مغربی بنگال اور دوسری ریاستوں میں ڈاکٹروں اور طبی برادری کی ہڑتال جاری تھی لیکن ہڑتال ختم کردی گئی ہے اور ایسا ڈاکٹروں کی درخواست کی عاجلانہ سماعت کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو کسی مناسب بینچ سے رجوع کیا جانا چاہئے۔ دریں اثناء انڈین میڈیکل اسوسی ایشن نے بھی ایک درخواست عدالت میں داخل کی ہے اور کہا ہے کہ سارے ملک میں ڈاکٹروں کو تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاہم مذکورہ بینچ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک بہت ہی سنگین مسئلہ ہے لیکن ہم دوسرے شہریوں کی قیمت پر ڈاکٹروں کو تحفظ مہیا نہیں کرسکتے۔ ہمیں ایک معقول رویہ اختیار کرنا ہوگا اور اس کی پوری تصویر کا جائزہ لینا ہوگا مگر ہم ڈاکٹروں کے تحفظ کے خلاف نہیں ہیں۔
