ہیٹی میں مسلح گروہوں کے تشدد میں اضافہ

   

رہاگا : ہیٹی کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سہ ماہی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس ملک میں پرتشدد واقعات کی وجہ سے اموات میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ہیٹی میں مسلح گروپوں کے تشدد کی وجہ سے سکیورٹی کے حالات انتہائی مخدوش ہو چکے ہیں۔ کیریبین جزائر کے چھوٹے سے ملک ہیٹی میں مسلح گروپوں کے تشدد کی وجہ سے سیکوریٹی کے حالات انتہائی مخدوش ہو چکے ہیں۔ جمعہ کے دن اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملیشاؤں اور مسلح گروہوں کے تشدد کی وجہ سے رواں سال کے پہلے تین ماہ کے دوران 1660 افراد ہلاک جبکہ 850 زخمی ہوئے۔ اقوام متحدہ نے کا کہنا ہے کہ ان اعدادوشمار کی روشنی میں گزشتہ سال کی آخری سہ ماہی کے مقابلے میں سن 2024 کی پہلی سہ ماہی میں ہیٹی میں ہلاکتوں کی تعداد میں پچاس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ہر پانچ میں سے چار افراد دارالحکومت پورٹ او پرنس میں ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق ہیٹی کا دارالحکومت ملک کا سب زیادہ خطرناک شہر بن چکا ہے، جہاں ریاستی رٹ بالکل ختم ہو چکی ہے۔