ہیٹ اسپیچ کے واقعات پر سپریم کورٹ فکرمند ، کہا: مذہب کو سیاست سے الگ کرنا ضروری

   

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بدھ کو ہیٹ اسپیچ کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہیٹ اسپیچ سے نجات پانے کیلئے مذہب کو سیاست سے الگ کرنا ہوگا ۔ آپسی بھائی چارہ میں دراریں آگئی ہیں ۔ جب تک سیاست کو مذہب سے الگ نہیں کیا جائے گا تب تک اس پر لگام نہیں لگائی جاسکتی ہے ۔ عدالت عظمی نے کہا کہ ہیٹ اسپیچ خالص طور پر ‘سیاسی’ ہے ۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ لوگ سماج کے اراکین کی توہین نہ کرنے کا عہد کیوں نہیں لے سکتے؟ ریاستیں نامرد اور بے اختیار ہوچکی ہیں اور اگر کام وقت پر نہیں کرتیں، اگر یہ خاموش ہیں تو انہیں ایک ریاست کیوں ہونا چاہئے ؟سپیرم کورٹ کی بینچ ایک توہین عدالت کی عرضی پر سماعت کررہی تھی ۔ بینچ نے مہاراشٹر سرکار سے عدالت عظمی کے احکامات کے باوجود ہندو تنظیموں کے ذریعہ نفرت آمیز تقاریر کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہنے کیلئے اس کے خلاف دائر توہین عدالت کی عرضی پر جواب دینے کیلئے کہا ہے ۔ اگلی سماعت 28 اپریل کو ہوگی