ہ48 ہزار ملازمین کی برطرفی کے سی آر کی ڈکٹیٹرشپ: محمد علی شبیر

   

چیف منسٹر اپنی سابقہ تقاریر یاد کریں، تلنگانہ تحریک میں آر ٹی سی ملازمین کا اہم رول
حیدرآباد۔7 ۔ اکتوبر ( سیاست نیوز) سینئر کانگریسی قائد اور سابق وزیر محمد علی شبیر نے آر ٹی سی کے 48,800 ملازمین کو برطرف کرنے کے سی آر حکومت کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ مطالبات کی یکسوئی کیلئے جمہوری انداز میں احتجاج ملازمین کا دستوری حق ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر ڈکٹیٹرشپ کی طرح حکومت چلا رہے ہیں اور انہیں دستور اور جمہوریت کا کوئی پاس و لحاظ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے پر 48,800 ملازمین کی برطرفی کا فیصلہ غیر جمہوری اور غیر دستوری ہے۔ انہوں نے چیف منسٹر سے سوال کیا کہ کیا انہیں جمہوریت پر ایقان نہیں ؟ محمد علی شبیر نے کہا کہ کے سی آر کی ڈکٹیٹرشپ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کل تک آر ٹی سی ملازمین کی ستائش کرتے ہوئے جس شخص کی زبان نہیں تھکتی تھی ، آج وہی ملازمین کی برطرفی کا فیصلہ کر رہے ہیں ۔ تلنگانہ تحریک کی کامیابی اور علحدہ ریاست کی تشکیل میں آر ٹی سی ملازمین کا اہم رول رہا ہے۔ کے سی آر نے آر ٹی سی ملازمین سے وعدہ کیا تھا کہ انہیں سرکاری ملازمین کے مماثل درجہ دیا جائے گا ، اس کے علاوہ آر ٹی سی کو نقصانات سے نکالنے کے لئے ہر ممکن قدم اٹھائے جائیں گے لیکن اقتدار ملتے ہی کے سی آر اپنے وعدوں کو بھول گئے ۔ پڑوسی ریاست آندھراپردیش میں کمزور معاشی حالات کے باوجود جگن موہن ریڈی نے آر ٹی سی کو حکومت میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ نقصانات سے ابھارا جائے لیکن تلنگانہ میں کے سی آر نے آر ٹی سی کو ضم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کے سی آر دراصل آر ٹی سی کو خانگیانے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہڑتال کے آغاز پر چیف منسٹر کو چاہئے تھا کہ وہ راست طور پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو بات چیت کے لئے مدعو کرتے۔ کے سی آر نے ملازمین کا موقف جاننے کی کوشش تک نہیں کی اور برطرفی کا یکطرفہ فیصلہ کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ عوام کیلئے جدوجہد کوئی نئی بات نہیں ہے۔ عوام جب جدوجہد کے ذریعہ تلنگانہ حاصل کرسکتے ہیں تو پھر جمہوریت کی بحالی جدوجہد کے ذریعہ ممکن ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ آر ٹی سی ملازمین کو حکومت کی دھمکیوں سے خوفزدہ ہوئے بغیر جدوجہد جاری رکھنی چاہئے ۔ انہوں نے دیگر محکمہ جات کے سرکاری ملازمین ، عوام اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ آر ٹی سی ملازمین کی تائید کا اعلان کریں۔