یادادری مندرکے ترقیاتی کام کورونا کے باعث متاثر

   

800 سے زائد ورکرس وطن واپس، کاموں میں رکاوٹ پر چیف منسٹر کو مایوسی

حیدرآباد۔ کورونا وباء نے یادادری مندر بھونگیر کے افتتاحی پروگرام میں تاخیر پیدا کردی ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے یادادری مندر کو تلنگانہ میں تروپتی کی طرز پر ترقی دینے کا فیصلہ کیا اور 1200 کروڑ کے خرچ سے لکشمی نرسمہا سوامی مندر کو ترقی دی گئی۔ چیف منسٹر چاہتے تھے کہ وہ جاریہ ماہ مئی میں کسی دن افتتاحی تاریخ کا تعین کردیں لیکن کورونا کی دوسری لہر کے نتیجہ میں مندر کا کام متاثر ہوا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 1000 سے زائد ورکرس تعمیری کاموں میں مصروف ہیں ان میں سے 800 سے زائد ورکرس کورونا اور لاک ڈاؤن کے خوف سے اپنے آبائی مقامات واپس ہوچکے ہیں۔ مندر کے کئی ملازمین اور عہدیدار بھی کورونا سے متاثر تھے جس کے نتیجہ میں گزشتہ دو ماہ سے مندر کے ترقیاتی کام سُست روی کا شکار ہیں۔ مندر کے ایگزیکیٹو آفیسر این گیتا ریڈی نے توثیق کی ہے کہ ورکرس کی آبائی مقامات روانگی سے تعمیری کام متاثر ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ واپسی کے بعد ہی کاموں میں تیزی پیدا ہوگی۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ بہت جلد یادادری مندر کے ترقیاتی پراجکٹ پر جائزہ اجلاس طلب کرنے والے ہیں۔ چیف منسٹر نے کورونا وباء کے باوجود حال ہی میں مندر کا دورہ کیا تھا اور وہ جاریہ ماہ بھی دورہ کا منصوبہ رکھتے تھے لیکن کورونا کی دوسری لہر نے اس پروگرام میں رکاوٹ پیدا کردی ہے۔ مندر کمیٹی کو دورہ کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی لہذا ان کا کہنا ہے کہ چیف منسٹر معائنہ کیلئے آئیں گے یا نہیں اس بارے میں قطعی طور پر کہا نہیں جاسکتا۔ مندر کے اہم ترقیاتی کام مکمل ہوچکے ہیں تاہم بیرونی حصہ میں تزئین نو کا کام تیزی سے جاری ہے۔ چیف منسٹر پراجکٹ کی تکمیل کا شخصی طور پر جائزہ لے رہے ہیں۔ اپنے حالیہ دورہ میں کے سی آر نے عہدیداروں کو ہدایت دی تھی کہ وہ مئی تک کاموں کی تکمیل کرلیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کورونا وبا کے پیش نظر مندر کے ترقیاتی پراجکٹ کا کام جون یا جولائی میں مکمل ہوگا۔