ممبئی،11 فروری (ایجنسیز) بالی ووڈ اداکارہ یامی گوتم کی فلم دوھْرندھر: دی ریونج میں مختصر کردار میں آمد نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں گفتگو کا مرکز نیپوٹزم اور فلمی صنعت میں تخلیقی فیصلے بن گئے ہیں۔ یہ ایکشن تھرلر بلاک بسٹر فلم دھْرندھرکا سیکوئل ہے اور اس کی ہدایت کاری آدتیہ دھر کر رہے ہیں، جو یامی گوتم کے شوہر بھی ہیں۔رنویر سنگھ کی مرکزی اداکاری سے سجی یہ فلم 19 مارچ 2026 کو سنیما گھروں میں ریلیز ہونے والی ہے۔ انڈسٹری رپورٹس کے مطابق یامی گوتم نے فلم کے لیے تقریباً پانچ دن کی شوٹنگ مکمل کی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان کا کردار مختصر ہونے کے باوجود کہانی میں اہم موڑ لاتا ہے اور اس میں ایکشن سے بھرپور مناظر شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق یامی کا کردار ناظرین پرگہرا اثر چھوڑنے کے لیے تیارکیاگیا ہے۔ ایک ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اگرچہ یہ کیمیو ہے، مگر کہانی کے لیے نہایت اہم ہے اور اس میں شدید ایکشن سیکوئنس شامل ہیں۔ یامی گوتم اس سے قبل آدتیہ دھر کے ساتھ اْڑی: دی سرجیکل اسٹرائیک، آرٹیکل 370 اور دھوم دھام جیسی فلموں میں کام کر چکی ہیں۔ رپورٹ منظرِ عام پر آنے کے بعد مداحوں کی آرا تقسیم نظر آئیں۔ کچھ ناقدین نے اسے نیپوٹزم کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ شریکِ حیات کو کاسٹ کرنا اور خاندانی افراد کو پروڈکشن میں شامل کرنا ترجیحی سلوک کے مترادف ہے۔ بعض مداحوں نے اس فیصلے پر طنزیہ تبصرے بھی کیے۔دوسری جانب کئی افراد نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یامی گوتم کی کیمیو شمولیت پہلے ہی منظرِ عام پر آچکی تھی اور یہ کوئی اچانک اضافہ نہیں تھا۔ مداحوں نے مؤقف اختیارکیا کہ ان کی اداکاری کی صلاحیت اور ماضی کے کامیاب اشتراکات اس انتخاب کو جائز بناتے ہیں۔ کچھ تبصرہ نگاروں نے آدتیہ دھرکی شفافیت کو سراہتے ہوئے اسے تخلیقی فیصلہ قراردیا۔دھْرندھر: دی ریونج سے بڑھتی توقعات کے درمیان یہ بحث ایک بار پھر اس امرکو اجاگر کرتی ہے کہ بالی ووڈ میں اندرونی روابط اور مواقع کی تقسیم کا معاملہ بدستور زیرِ بحث ہے، جبکہ فلم ساز اسے صلاحیت اورکہانی کی ضرورت سے جوڑتے ہیں۔