۔2012 تا 2016 کے صارفین کا احاطہ ، امریکی و اسرائیلی صارفین کو فائدہ
حیدرآباد۔25ستمبر(سیاست نیوز) ای۔میل کی دنیا میں اپنا منفرد مقام رکھنے والی کمپنی یاہو کی جانب سے 2012-16 کے درمیان ڈاٹا کی چوری اور افشاء کے بعد اب یاہو نے اپنے صارفین کو معاوضہ ادا کرنا شروع کردیا ہے لیکن اس معاوضہ کی ادائیگی صرف امریکہ اور اسرائیل میں رہنے والے صارفین کو کی جا رہی ہے کیونکہ ان ممالک میں ڈاٹا کے افشاء اور اس کے تحفظ کے سلسلہ میں موجود قوانین کے سبب کمپنی کی جانب سے ان صارفین کو مطلع کرتے ہوئے انہیں معاوضہ ادا کیا جا رہاہے جن کے ای ۔میل کھاتوں کی تفصیلات بالخصوص فون نمبرات اور دیگر تفصیلات کا افشاء ہوا تھا ۔ یاہو کے پاس موجود ڈاٹا کے افشاء کے سبب دنیا بھر کے کروڑہا صارفین کے ای۔میل کھاتوں سے تفصیلات دوسروں تک پہنچ چکی تھی لیکن اب جو معاوضہ ادا کیا جا رہاہے وہ صرف محدود افراد کو فراہم کیا جا رہاہے کیونکہ جن ممالک میں شخصی تفصیلات کے سلسلہ میں سخت قوانین نہیں ہیں اور لوگوں کو اپنے حقوق کے سلسلہ میں آگہی حاصل نہیں ہے ان لوگوں کو یاہو نے بھی نظر انداز کیا جانے لگا ہے۔بتایاجاتا ہے کہ جاریہ ماہ کے اوائل سے ہی شہریان حیدرآباد جو اب تک بھی یاہو ای۔میل استعمال کر رہے ہیں انہیں ان کے ای میل کے ذریعہ یہ اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ ان کے کھاتہ کی تفصیلات کا افشاء ہوا ہے اور یاہو کی جانب سے یہ کہا جا رہاہے کہ ای۔ میل کھاتہ کے ساتھ ہوئی مفاہمت کے سلسلہ میں یاہو نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کا معاوضہ ادا کیا جائے لیکن جب معاوضہ کے حصول کی تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں تو اس بات کا انکشاف ہورہا ہے کہ یاہو کی جانب سے صرف اسرائیلی اور امریکی باشندوں کو جو یاہو کے ای۔میل کا استعمال کر رہے تھے اور سال 2012-16 کے دوران ای۔میل ہیک یا تفصیلات کے افشاء کا شکا ر ہوئے ہیں ان کو معمولی معاوضہ ادا کیا جا رہاہے جبکہ ہندستانیوں اور دیگر ممالک کے رہائشی افراد کو جو ای ۔میل صارفین ہیں ایسی کوئی سہولت فراہم نہیں کی جا رہی ہے۔ شہر حیدرآباد میں موجود یاہو ای۔میل صارفین کا کہنا ہے کہ وہ یاہو کو ایک قابل اعتماد ویب سائٹ تصور کرتے ہیں اور اس ویب سائٹ سے ڈاٹا کی چوری یا پھر ڈاٹا کے افشاء کی توقع نہیں کرسکتے لیکن اب جبکہ کمپنی خود اس بات کا اعتراف کررہی ہے کہ اس کی جانب سے ڈاٹا کا افشاء ہوا ہے اور وہ ای۔میل کھاتہ میںموجود تفصیلات کے افشاء پر معاوضہ ادا کر رہی ہے تو تمام صارفین کو یکساں ادائیگی عمل میں لائی جانی چاہئے۔