یتیم بچوں کو پی ایم کیر سے راحت فراہم کی جائے

   

تعلیم میں کوئی رکاوٹ نہ ہو ، ضلع کلکٹرس کو سپریم کورٹ کی ہدایت
حیدرآباد ۔ 27 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : کورونا کے سبب فوت ہونے والے افراد کے بچوں کی مدد کے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ سپریم کورٹ کی جانب سے حالیہ دنوں جاری کئے گئے احکامات پر انتظامیہ سرگرم ہوگیا ہے ۔ ایسے بچے جن کے والدین یا پھر سرپرست کوویڈ کے سبب فوت ہوگئے ہیں انہیں پی ایم کیرس چلڈرنس اسکیم کے تحت راحت فراہم کی جائے گی ۔ اور ان کی ہر لحاظ سے مدد کرنے کا سپریم کورٹ نے حکم دیا ۔ سپریم کورٹ نے جمعرات کو دئیے گئے فیصلہ میں ضلع کلکٹرس کو ہدایت دی کہ وہ ایسے بچوں کی فوری مدد کریں ۔ جاریہ تعلیمی سال سے بغیر کسی مشکل و رکاوٹ کے تعلیم فراہم کریں ۔ جسٹس ایل ناگیشور راؤ ، جسٹس انیرودھ بوس پر مشتمل بنچ نے یہ فیصلہ دیا ۔ بچوں کے متعلق اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے مرکزی حکومت نے بتایا کہ ایسے بچوں کے لیے خصوصی پورٹل تیار کیا گیا ہے ۔ تاحال 30 ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں سے تعلق رکھنے والے 2,600 نے اپنا نام اس میں درج کروایا جن میں 418 درخواستوں کو ضلع کلکٹرس نے منظوری دی جب کہ دیگر درخواستوں کی جانچ کی جارہی ہے ۔ سپریم کورٹ نے موجودہ درخواستوں کی جانچ کے بعد منظوری دینے کا حکم دیا اور چند مشورے دئیے ۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر پورٹل میں نام درج کروانے والے تمام 2600 بچوں کے تعلیمی و دیگر اخراجات کو حکومت ہی برداشت کرے ۔ خانگی اسکولس میں زیر تعلیم بچوں کے اخراجات فیس و دیگر اخراجات کو برداشت کرنے کیلئے ریاستی حکومتیں مرکز سے اخراجات کیلئے سوال کرسکتی ہیں ۔ خانگی اسکولس میں زیر تعلیم بچوں کیلئے فوری فیس ادا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے لہذا فیس کی فوری ادائیگی کے انتظامات کئے جائیں ۔ چھوٹے بچوں کی تفصیلات کو ’ بال سواراج پورٹل ‘ میں درج کرنے میں تاخیر نہ کریں ۔ اسی دوران مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل ایشوریہ بٹھی نے بچوں کے تعلق سے جاری اقدامات کے متعلق پی ایم کیرس فار چلڈرنس اسکیم کے تعلق سے تفصیلات پیش کیں ۔ استفادہ کنندگان کی تین زمروں میں تقسیم عمل میں لائی گئی ہے ۔ سابق میں ایک اور اب ایک دونوں کو کھونے والوں کا ایک زمرہ سرپرستوں اور کفیل حضرات کو کھونے والے افراد کے علحدہ علحدہ زمرے رکھتے ہوئے موثر اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ عدالت نے ان بچوں کی نشاندہی کیلئے ضلع کلکٹرس کو ذمہ داری دی ہے ۔۔A