یروشلم میں فلسطینی اپنا ہی گھر مسمارکرنے پر مجبور

   

لندن،2 فروری (ایجنسیز) مشرقی یروشلم میں ایک فلسطینی شہری نے اسرائیلی حکام کی جانب سے بغیر اجازت تعمیر کے الزام میں نوٹس ملنے کے بعد اپنا گھر خود مسمارکردیا۔ جبل المْکبر محلے (یروشلم کے جنوب مشرق) کے رہائشی یاسر ماہر دعنہ کو صلاحیہ علاقے میں واقع اپنا مکان گرانے پر مجبورکیا گیا۔ یہ مکان تقریباً 100 مربع میٹر کے رقبے پر مشتمل تھا اور چار افراد پر مشتمل خاندان کی رہائش کا ذریعہ تھا۔ اسرائیلی حکام اکثر یروشلم میں فلسطینی باشندوں کو مبینہ طور پر اجازت نامے کے بغیر تعمیرکے الزام میں اپنے گھر خود گرانے پر مجبورکرتے ہیں۔ انکار کی صورت میں گھروں کو اسرائیلی بلڈوزروں سے مسمار کردیا جاتا ہے اور بھاری جرمانے عائد کیے جاتے ہیں۔ وفا نیوز ایجنسی کے مطابق، اسرائیلی پالیسی کا مقصد فلسطینیوں کو جبری طور پر بے دخل کرنا اور یروشلم میں اسرائیلی آبادکاریوں کو وسعت دینا ہے، جو بین الاقوامی اور انسانی قوانین کی خلاف ورزی ہے جو رہائش کے حق کی ضمانت دیتے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کو مقبوضہ علاقوں میں جنگی جرائم اور نسل کشی کے الزامات کا سامنا بین الاقوامی فوجداری عدالت اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں ہے۔