برلن : جرمنی کی ایک عدالت نے ایک خاتون کو ‘اسلامک اسٹیٹ‘ جیسی دہشت گرد تنظیم کی رکنیت، انسانیت کیخلاف جرائم اور نسل کشی میں مدد اور حوصلہ افزائی کرنے کا مجرم قرار دیا۔جرمنی میں کوبلنز کی اعلیٰ علاقائی عدالت نے 21 جون چہارشنبہ کو ایک خاتون نادین کے کو نام نہاد اسلامی شدت پسند گروپ ’’اسلامک اسٹیٹ‘‘ کا رکن ہونے اور ایک یزیدی خاتون کے ساتھ غیر انسانی سلوکر نے کر جرم میں نو برس قید کی سزا سنائی۔عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ 37 سالہ خاتون نے یزیدی خاتون کے ساتھ بدسلوکی کی اور عراق اور شام میں گروپ کے ساتھ رہنے کے دوران انہوں نے اس خاتون کو ”گھریلو غلام” بننے پر مجبور کیا۔عدالت نے انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کے ساتھ ہی نسل کشی میں مدد کرنے اور اس کی حوصلہ افزائی کرنے کا بھی مجرم قرار دیا۔یزیدی خاتون نے مقدمہ کی سماعت کے دوران اپنی گواہی میں کہا تھا کہ وہ مدعا علیہ کو پہچانتی ہیں۔ فیصلہ سننے کیلئے انہوں نے چہارشنبہ کو بلنز کا دوبارہ سفر کیا۔مقدمہ کے سماعت کرنے والی جج نے کہا کہ ملزم نے شام اور عراق میں اسلامک اسٹیٹ کے ساتھ وابستگی کے دوران تین برسوں تک ”اپنے مقاصد کے حصول کیلئے خاتون کو گھریلو غلام کے طور پر رکھا” اور ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا۔