عوام میں حکومت کے خلاف غصہ کم اور تبدیلی کا رجحان زیادہ
یلاریڈی۔ یکم؍ ڈسمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) حلقہ یلاریڈی سے کانگریس اور بی آر ایس امیدواروں میں کانٹے کی ٹکر رہی اور دونوں ہی امیدوار اپنی اپنی جگہ کامیابی کا دعوی کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ گذشتہ 2018ء کے اسمبلی کے انتخابات میں کانگریسی امیدوار کو ہی عوام نے منتخب کیا تھا جو پارٹی کو اقتدار نصیب نہ ہونے پر بی آر ایس کی آغوش میں چلے گئے، اس مرتبہ بھی حلقہ میں نیا چہرہ مدن موہن کی شکل میں اسمبلی انتخابات کے میدان کا حصہ بنا ہے جس سے عوام کے اندر ایک نیا جوش خاص کر نوجوان رائے دہندوں میں دیکھنے میں آیا۔ حلقہ میں نہ کانگریسی منشور کا دبدبہ رہا نہ بی آر ایس کی خدمت کا اثر دیکھنے میں آیا۔ زیادہ تر عوام تبدیلی کے خواہاں نظر آئے جس سے اس مرتبہ نتائج حکومت کے برعکس ہونے کی افواہیں گشت کررہی ہیں۔ عوام کے اندر حکومت کے خلاف غصہ کم اور تبدیلی کا رجحان زیادہ رہا جو ہوسکتا ہے کانگریس کیلئے ثمرآور ثابت ہو کیونکہ ایک عرصہ دراز کے بعد عوام کے اندر کانگریس کو لیکر غیر معمولی اعتماد پیدا ہوا ۔ تلنگانہ سرکار کی دس سالہ حکمرانی کے بعد خود عوام میں اس مرتبہ حکمرانی کو بدلنے کا قوی امکان و جذبہ دکھائی دیا۔ حکومت کے بہترین فلاحی اسکیمات کے باوجود نیم وعدوں اور بیروزگاری کو دور کرنے کے اقدامات کم رہنے سے بھی حکومت کو عوام میں رخصت پر بھیجنے کی سوچ کثرت سے رہی۔ دوسری طرف کانگریس پارٹی کے اندر پیدا نیا جوش بھی رائے دہندوں کو مطمئن کرنے میں معاون رہا۔ ایک عرصہ کے بعد کانگریس سے متعلق عوام میں لگاؤ کا جوش نظر آیا۔ خیر یلاریڈی حلقہ سے کانگریس امیدوار مدن موہن اور بی آر ایس امیدوار سریندر کم سے کم اکثریت سے کامیابی کا عزم کررہے ہیں جبکہ ایسا بھی ہوسکتا ہیکہ کسی ایک امیدوار کو غیر معمولی اکثریت سے کامیابی ملے کیونکہ اس انتخابات میں عوام نے اپنی رائے کو ظاہر کرنے سے بڑی حد تک اجتناب کیا اور اب کی بار نتائج رزداری کیساتھ سامنے آنے کو ہیں جسکے بعد انتخابی میدان کے سکندر کا پتہ چلے گا۔
