یوروپی یونین کے وفد اور دیگر ملکوں کے سفراء کے دورہ کا خیرمقدم : ڈاکٹر احمد بن مبارک
صنعاء : وزارت خارجہ یمن کے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیر خارجہ یمن ڈاکٹر احمد مبارک نے یمن کا دورہ کرنے والے یوروپی یونین کے وفد اور جرمنی ، بلجیم ، فرانس ، نیدر لینڈ ، آئرلینڈ ، فن لینڈ ، سیوڈن کے سفیروں اور ناروے کے ڈپٹی سفیر کے دورہ یمن کا خیرمقدم کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ان عالمی شخصیتوں کا دورہ ایک اہم سیاسی پیام دیتا ہے ۔ یوروپی ممالک کی دوستی یمن کی حکومت کے ساتھ ایک اہم باب کا آغاز ہے ۔ یمن میں عوامی زندگی کو معمول پر لانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ یمن میں امن کی بحالی ، سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم نے کئی مسائل پر غور وخوص کیا ہے اور یہ واضح کردیا ہے کہ حوثی باغیوں کی جانب سے بزدلانہ دہشت گردی حملے اور عدن انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بالسٹک میزائل کے ساتھ کی گئی کارروائی بزدلانہ تھی ۔ یہ حملے اس وقت کئے گئے جب نئی حکومت کی کابینہ نے ایئرپورٹ پہنچ کر امن کے قیام کی کوشش کررہی تھی ۔ یمن میں کئی برسوں سے جنگ جیسی صورتحال ہے اور امن درہم برہم کردیا گیا ہے ۔ حوثی باغیوں کا یہ حملہ ناکام بنادیا گیا ۔ یمن کو غیر مستحکم کرنے کیلئے حوثی باغیوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اس مجرمانہ طرز کارروائی کو ختم کیا جائے گا ۔ یمن کے عوام کے حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنا ضروری ہے ۔ ہم نے ریاض معاہدہ کے تحت بہتر مستقبل کی امید پیدا کی ہے ۔ یہ معاہدہ غیر معمولی تاریخی اہمیت رکھتا ہے ۔ یمن میں جنگ و جدال کی صورتحال کو ختم کرنے کیلئے مذاکرات کی میز تک پہنچ رہے ہیں ۔ آپسی اختلافات دور کرتے ہوئے اس لڑائی کو ختم کیا جانا چاہیئے ۔ عبوری دارالحکومت عدن میں تعمیری سیاسی فضا پائی جاتی ہے ، حکومت کی کارکردگی پر مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں ۔ ڈاکٹر احمد بن مبارک نے مزید کہا کہ ہم سعودی عرب میں اپنے برادران کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں تاکہ ریاض معاہدہ کو مکمل طور پر روبہ عمل لایا جاسکے ۔ ہم نے محفوظ آئیل ٹینکر کے مسئلہ پر بھی غور کیا ہے اور یہ وضاحت کی کہ حوثی باغیوں نے مسلسل رکاوٹ پیدا کررہے ہیں جب کہ ہم نے یمن تک بین الاقوامی ٹیکیکل ٹیم کی رسائی کی اجازت دے دی ہے ۔ عالمی برادری کیلئے یہ ایک اور اشارہ ہے کہ یمن کی حکومت صورتحال سے نمٹنے کیلئے حوثی باغیوں پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنا چاہتی ہے ۔ ہم نے عہد کیا ہے کہ یمن کی حکومت جامع قومی شیرازہ بندی کی طرف کام کررہی ہے اور عالمی برادری کے ساتھ سیاسی شراکت داری کو فروغ دے رہی ہے تاکہ یمن کے عوام کو ایک بہتر مستقبل دیا جاسکے اور یمن میں جامع امن قائم کیا جاسکے ۔یوروپی یونین کے وفد نے اپنے دورہ کے دوران وزیراعظم ، وزیر منصوبہ بندی اور عالمی تعاون وزیر قانونی اُمور و انسانی حقوق اور وزیر فینانس کے علاوہ ڈپٹی گورنر سنٹرل بینک سے بھی ملاقات کی ۔ مہمان سفارت کاروں کو آئندہ چھ ماہ کیلئے حکومت کے پروگراموں سے واقف کروایا گیا ۔ پیرس کلب میں 15 اپریل 2020 اور جی 20کے درمیان ہوئے مشترکہ معاہدہ کے مطابق قرض کی ادائیگی کو ملتوی کرنے اور جمہوری یمن اور جمہوری فرانس کے درمیان معاہدہ بھی کئے گئے ۔
