یمن میں شہروں کو نشانہ بنانے کے دعوے بے بنیاد

   

صنعا: یمن میں حادثات کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ ٹیم کے ترجمان اور قانونی مشیر منصور المنصور نیاتحادی افواج کی طرف سے یمن کی شہری آبادی کونشانہ بنانے کے دعوے مستردکردیئے ہیں۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق انہوں ریاض میں سعودی مسلح افواج کے کلب میں منعقد ہونے والی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ’تجاوزات کے متعلق تمام دعوؤں کی جانچ پڑتال کی گئی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ بعض عالمی تنظیموں اور اداروں کی طرف سے اتحادی افواج پر بے بنیاد دعوے کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ ایک دعوے میں کہا گیا کہ 20 مئی 2019 کو اتحادی افواج کے ڈرون طیاروں نے الفرش نامی دیہی علاقے میں رہائشیوں کو نشانہ بنایا ہے‘۔’تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ جس دیہی علاقے کی جائے وقوعہ بتائی گئی ہے وہ غلط ہے جبکہ مذکورہ تاریخ میں اتحادی افواج کا کوئی ڈرون یمن کی طرف نہیں بھیجا گیا۔اسی طرح اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی کی طرف سے ایک دعوی کیا گیا جس میں کہا گیا کہ 18 جنوری 2022 کو صنعا شہر کے المعین علاقے میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا۔تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ مذکورہ تاریخ میں اتحادی افواج کا ایک آپریشن ہوا ہے جو صنعا میں الثورہ محلے میں ہوا اور جس میں حوثی ملیشیا کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔