صنعا: /30 ڈسمبر (ایجنسیز) یمن نے سعودی اتحادی فورسز کے حملے کے بعد ملک میں 90 روز کیلیے ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔یمنی صدارتی کونسل نے ملک میں 90 روز کیلیے ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔یمنی صدارتی کونسل کے مطابق یمن کی فضائی، بحری اور بری حدود 72 گھنٹوں کیلیے بند رہیں گی۔اس سے قبل کہا گیا کہ سعودی اتحاد فورسز نے مکلا بندرگاہ پر اتارے گئے اسلحے اور فوجی گاڑیوں کو محدود کارروائی میں نشانہ بنایا۔سعودی اتحادی فورسز کی کارروائی اس وقت کی گئی، جب 2 بحری جہاز بغیر اجازت بندرگاہ میں داخل ہوئے اور مشرقی یمن میں سدرن ٹرانزیشنل کونسل کے لیے اسلحہ اور عسکری سامان اتارا گیا۔اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے بتایا کہ یہ دونوں جہاز 27 اور 28 دسمبر 2025 کو فجیرہ بندرگاہ سے روانہ ہو کر مکلا پہنچے ۔ انہوں نے اتحاد کی جوائنٹ فورسز کمانڈ سے کوئی باضابطہ اجازت حاصل نہیں کی تھی۔
عرب اتحاد کا یمن کی مُکلا بندرگاہ پر فضائی حملہ
صنعاء ۔ 30 ڈسمبر (ایجنسیز) یمن میں سعودیہ کے زیرِ قیادت عرب اتحاد نے ایک محدود فضائی حملے کا آغاز کیا جس میں اس کے مطابق مکلا بندرگاہ پر غیر ملکی فوجی اعانت کو نشانہ بنایا گیا۔ اس سے چند ہی دن قبل اتحاد نے جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) کو مشرقی صوبہ حضرموت میں فوجی پیش قدمی کرنے کے خلاف خبردار کیا تھا۔اتحادی افواج کے ترجمان نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ سے آنے والے دو بحری جہاز اتحاد کی اجازت کے بغیر ہفتہ اور اتوار کو مکلا بندرگاہ میں داخل ہوئے، انہوں نے اپنے ٹریکنگ سسٹم غیر فعال کر دیے اور “ایس ٹی سی کی فوجی اعانت کیلئے”بڑی مقدار میں ہتھیار اور جنگی گاڑیاں اتاریں۔اتحاد نے کہا کہ مکلا بندرگاہ پر حملے سے کوئی ہلاکتیں یا اصل اہداف کے علاوہ کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا، سعودی سرکاری میڈیا نے اطلاع دی۔اتحاد کے مطابق ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں دونوں جہازوں کے لنگرانداز ہونے کے بعد ہتھیاروں کی منتقلی دکھائی گئی۔اتحادی افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی کا حوالہ دیتے ہوئے سعودی سرکاری میڈیا نے کہا کہ یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے حضرموت اور المَھرہ میں شہریوں کے تحفظ کی درخواست کی تھی جس پر عمل کرتے ہوئے اتحادی فضائیہ نے منگل کو علی الصبح ایک محدود فوجی کارروائی کی جس میں بحری جہازوں سے اتارے گئے ہتھیاروں اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق ہتھیاروں کی منتقلی کی دستاویزبندی ہو گئی تو ہی یہ حملہ ہوا۔المالکی نے ایک بیان میں کہاکہ یہ بات کشیدگی میں کمی کے اقدامات اور پرامن حل کی کوششوں نیز اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی 2015 کی قرارداد نمبر 2216 کی واضح خلاف ورزی ہے۔
