’’ینگ انڈیا‘‘ میرا برانڈ، تعلیم اور روزگار حکومت کی اولین ترجیح: ریونت ریڈی

,

   

دو روپئے کیلو چاول این ٹی آر ، آئی ٹی چندرا بابو نائیڈو اور زراعت راج شیکھر ریڈی کی شناخت، نارسنگی میں ’’ینگ انڈیا‘‘ پولیس اسکول کا افتتاح، چیف منسٹر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 10 ۔ اپریل (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ ہر چیف منسٹر نے کسی مخصوص شعبہ میں کارکردگی کے ذریعہ اپنا برانڈ امیج بنایا اور ان کا برانڈ امیج ’’ینگ انڈیا‘‘ ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ مہاتما گاندھی کے نظریہ سے متاثر ہوکر انہوں نے ینگ انڈیا کو اپنا برانڈ امیج بنایا ہے ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی آج رنگا ریڈی ضلع کے نارسنگی میں ینگ انڈیا پولیس اسکول کا افتتاح کر رہے تھے ۔ ملازمین پولیس کے بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کیلئے یہ اسکول قائم کیا گیا ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست میں مختلف چیف منسٹرس نے اپنا برانڈ امیج بنایا۔ آنجہانی این ٹی راما راؤ کو دو روپئے کیلو چاول اسکیم سے شہرت حاصل ہوئی ۔ حیدرآباد میں انفارمیشن ٹکنالوجی اور ہائی ٹیک سٹی سے چندرا بابو نائیڈو کی شناخت ہوئی اور آئی ٹی ان کا برانڈ امیج تھا۔ آنجہانی ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کو کسانوں کے ہمدرد کی حیثیت سے لوگ یاد کرتے ہیں جنہوں نے زرعی شعبہ کو مفت برقی سربراہ کی اور کسانوں کی بھلائی کے کئی قدم اٹھائے۔ محکمہ زراعت اور کسانوں کی ترقی ان کا برانڈ امیج تھا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کئی ہمدرد اور ناقدین ان سے کہہ رہے ہیں کہ گزشتہ 16 ماہ میں کوئی برانڈ امیج نہیں بنایا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ میں اپنے ہمدردوں اور ناقدین کو بتانا چاہتا ہوں کہ ینگ انڈیا میرا برانڈ امیج ہے۔ گاندھی جی نے 10 سال تک انگریزوں کے خلاف جدوجہد کیلئے ’’ینگ انڈیا‘‘ کے نام سے اخبار شائع کیا تھا۔ گاندھی جی کے اس جذبہ سے متاثر ہوکر میں نے بھی ینگ انڈیا کو تلنگانہ کے برانڈ کے طور پر اختیار کیا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تعلیم ، روزگار اور صحت ان کی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ چیف منسٹر نے اسکول کی شاندار کارکردگی کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا مستقبل کلاس رومس میں رہتا ہے۔ لہذا حکومت نے تعلیم اور روزگار پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔ تلنگانہ حکومت تعلیم اور روزگار کے ساتھ ساتھ بہتر طبی سہولتوں کی فراہمی کا تہیہ کرچکی ہے۔ حکومت نے بیروزگار نوجوانوں کو ٹکنیکل اسکلس کی ٹریننگ فراہم کرنے کیلئے ینگ انڈیا اسکل یونیورسٹی قائم کی ہے۔ نامور صنعت کار آنند مہیندرا کو یونیورسٹی کا چیرپرسن مقرر کیا گیا۔ یونیورسٹی میں داخلہ لینے والے طلبہ کیلئے روزگار کی ضمانت ہے۔ ینگ انڈیا اسکل یونیورسٹی کو ملک کی بیسٹ یونیورسٹی میں تبدیل کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ میں ینگ انڈیا اسپورٹس یونیورسٹی اور اکیڈیمی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تاکہ ابھرتے کھلاڑیوں کو بہتر ٹریننگ دی جاسکے۔ آئندہ اولمپکس مقابلوں میں تلنگانہ کے اتھلیٹس اور کھلاڑیوں کو بہتر ٹریننگ کے ذریعہ میڈل حاصل کرنے کے قابل بنایا جائے گا۔ ہر اسمبلی حلقہ میں 25 ایکر اراضی پر ینگ انڈیا اقامتی اسکولس قائم کئے جارہے ہیں۔ چیف منسٹر نے سرکاری اسکولوں میں پرائمری سطح پر داخلوں کے رجحان میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت نے سرکاری نظام تعلیم میں اصلاحات کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری سطح پر پری اسکولس قائم کئے جائیں گے ۔ چیف منسٹر نے تیقن دیا کہ پولیس اسکولس کو سینک اسکول کی طرز پر ترقی دی جائے گی۔ حکومت اسکول کی ترقی کیلئے درکار فنڈس جاری کرے گی ۔ چیف منسٹر نے خانگی کمپنیوں سے اپیل کی کہ سماجی ذمہ داری کے تحت پولیس اسکول کی مالی مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اسکولس کے لئے 100 کروڑ کا کارپس فنڈ قائم کیا جائے گا جس کے ذریعہ اسکول کی ضروریات کی تکمیل ہوگی۔ کارپس فنڈ کے قیام کے لئے درکار منظوری حکومت کی جانب سے دی جائے گی۔ ریونت ریڈی نے ملازمین پولیس سے اپیل کی کہ وہ پولیس اسکول میں اپنے بچوں کا داخلہ کرائیں۔ کانگریس نے انتخابی منشور میں پولیس اسکول کے قیام کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم جواہر لال نہرو نے ملک میں کئی یونیورسٹیز کا سنگ بنیاد رکھا۔ نہرو کے نظریہ کے نتیجہ میں ہندوستان کا تعلیمی نظام دنیا کے دیگر ممالک سے مسابقت میں موقف میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں صرف چند چیف منسٹر اور وزرائے اعظم کو ان کی خدمات کیلئے یاد کیا جاتا ہے۔چیف منسٹر نے کہا کہ 140 کروڑ کی آبادی والے ملک ہندوستان کو اولمپک میں ایک بھی گولڈ میڈل حاصل نہیں ہوا جبکہ ساؤتھ کوریا جیسے چھوٹے ملک کو 32 گولڈ میڈل حاصل ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں ہر سال 10 لاکھ انجنیئرس کو تیار کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں سرکاری اسکولوں کی تعداد 29500 ہے اور طلبہ کی تعداد 18 لاکھ 50 ہزار ہے۔ وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی ڈی سریدھر بابو نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ملازمین پولیس کے بچوں کیلئے بطور خاص اسکول کے قیام کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین پولیس سماج کیلئے غیر معمولی خدمات انجام دے رہے ہیں اور ان کے بچوں کو بہتر تعلیمی سہولتوں کی فراہمی حکومت نے قبول کی ہے۔ سریدھر بابو نے کہا کہ حکومت کی ترجیحات میں تعلیم ، روزگار اور ہیلت کیر شامل ہے۔ اس موقع پر ڈائرکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر جتیندر ، کمشنر پولیس حیدرآباد سی وی آنند ، رکن پارلیمنٹ کونڈا وشویشور ریڈی ، ارکان مقننہ مہیندر ریڈی ، پرکاش گوڑ اور دوسرے موجود تھے۔1