مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا مطالبہ، پولیس اور کارکنوں کے درمیان تکرار
حیدرآباد: تلنگانہ میں سرکاری محکمہ جات کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا مطالبہ کرتے ہوئے یوتھ کانگریس کارکنوں نے پبلک سرویس کمیشن کے دفتر کا گھیراؤ کیا ۔ صدر یوتھ کانگریس شیوا سینا ریڈی کے علاوہ ریاست کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے قائدین نے احتجاج میں حصہ لیا۔ پولیس نے احتجاجیوں کو پبلک سرویس کمیشن کی گیٹ پر روک لیا اور بعد میں حراست میں لے لیا۔ گرفتار شدگان کو شہر کے مختلف پولیس اسٹیشنوں کو منتقل کردیا گیا ۔ شیوا سینا ریڈی نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر حکومت عوام سے جھوٹے وعدے کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 6 برسوں میں پبلک سرویس کمیشن کے ذریعہ معمولی تقررات کئے گئے جبکہ دو لاکھ سے زائد جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ انہوں نے بیروزگار نوجوانوں کو ماہانہ الاؤنس کی اجرائی کا مطالبہ کیا ۔ یوتھ کانگریس قائدین نے کہا کہ کے ٹی آر تقررات کے سلسلہ میں کھلے مباحث کا چیلنج کرچکے ہیں لیکن کانگریس قائدین نے جب چیلنج کو قبول کیا تو وہ تیار نہیں ہوئے ۔ حکومت کی جانب سے تقررات کے بارے میں جاری کئے گئے اعداد و شمار کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے یوتھ کانگریس قائدین نے کہا کہ کمیشن کے اہم عہدے خالی ہیں، پھر کس طرح سے جائیدادوں پر تقررات کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں نے تلنگانہ میں خوشحالی کے لئے اپنی جانوں کی قربانی دی لیکن تلنگانہ ریاست میں طلبہ اور نوجوانوں کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں حاصل ہوا۔ پولیس نے گاندھی بھون کے اطراف سخت حفاظتی انتظامات کئے تھے اور پارٹی کارکنوں کو باہر نکلنے سے روکنے کیلئے رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں۔ پولیس کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہوئے یوتھ کانگریس کارکنوں نے سڑک پر دھرنا منظم کیا جس کے نتیجہ میں ٹریفک میں خلل پڑا ۔ ریاستی صدر اور دیگر قائدین کو حراست میں لے لیا جن میں یوتھ کانگریس حیدرآباد کے صدر ایم روہت کے علاوہ جنرل سکریٹری پربھاکر ، اروند یادو ، راکیش ، ودیا ریڈی ، شیولال راتھوڑ ، روی کانت گوڑ ، شراون ریڈی ، ستیش ریڈی اور دوسرے شامل ہیں۔ حیدرآباد کے علاوہ رنگا ریڈی ، میڑچل اور وقار آباد سے تعلق رکھنے والے یوتھ کانگریس کارکنوں اور قائدین نے احتجاج میں حصہ لیا۔