حیدرآباد ۔18۔ مئی(سیاست نیوز) کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے لاک ڈاؤن کے دوران نلا ملا کے جنگلاتی علاقوں میں یورانیم کیلئے کھدائی کی سرگرمیوں پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کل جماعتی ایجی ٹیشن کا اعلان کیا ۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہنمنت راؤ نے کہا کہ ایسے وقت جبکہ تلنگانہ بلکہ سارا ملک کورونا سے پریشان ہے مرکزی حکومت نے یورانیم کی کھدائی کیلئے تیاریوں کا آغاز کیا ہے ۔ یورانیم کارپوریشن کی جانب سے 7,600 ایکر اراضی پر کھدائی کے لئے سروے کا فیصلہ کیا گیا۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر کی خاموشی مرکز
سے ملی بھگت کو ثابت کرتی ہے۔ کے سی آر نے اسمبلی میں اعلان کیا تھا کہ تلنگانہ میں یورانیم کھدائی کی اجازت نہیں دی جائے گی لیکن اب وہ مرکز کی سرگرمیوں پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ یورانیم کھدائی کی صورت میں دریائے کرشنا کا پانی آلودہ ہوجائے گا اور یہی پانی حیدرآباد کو سربراہ کیا جاتا ہے ۔ محبوب نگر ، نلگنڈہ اوردیگر اضلاع میں آلودگی کے سبب عوام بیماریوں میں مبتلا ہوجائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح وشاکھاپٹنم میں زہریلی گیس کے سبب تباہی ہوئی ، اسی طرح یورانیم کی کھدائی سے عوامی زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ انہوں نے جگن موہن ریڈی اور کے سی آر پر عوامی زندگی سے کھلواڑ کا الزام عائد کیا اور کہا کہ بہت جلد کل جماعتی اجلاس طلب کرتے ہوئے احتجاجی لائحہ عمل کو قطعیت دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ریاستوں میں کل جماعتی اجلاس طلب کیا جائے گا ۔ ہنمنت راؤ نے بتایا کہ دریائے کرشنا کے پانی کی آلودگی حیدرآباد کے شہریوں کیلئے خطرہ ثابت ہوگی۔ 23 اپریل کو مرکز نے تلنگانہ حکومت کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے نلا ملا علاقہ کی تفصیلات طلب کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام متاثرہ اضلاع میں بڑے پیمانہ پر احتجاج کیا جائے گا۔