حیدرآباد۔14 ۔ اگست (سیاست نیوز) ناگر کرنول کے نلا ملا جنگلاتی علاقوں میں یورانیم کے لئے کھدائی کے خلاف قبائلی عوام کے احتجاج سے اظہار یگانگت کیلئے پہنچنے والے کانگریس قائدین کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ سابق رکن اسمبلی اور اے آئی سی سی کسان سیل کے نائب صدرنشین ایم کودنڈا ریڈی ، سابق ارکان اسمبلی ڈی ومشی کرشنا ، موہن ریڈی اور دیگر قائدین کو پولیس نے جنگلاتی علاقہ میں جانے سے روک دیا۔ کانگریس قائدین جنگلاتی علاقہ میں کاشت کرنے والے کسانوں سے ملاقات کے لئے پہنچے تھے۔ ناگر کرنول کے راستہ میں پولیس نے انہیں حراست میں لے کر پولیس اسٹیشن منتقل کردیا ۔ حکومت کی جانب سے نلا ملا جنگلاتی علاقہ میں کھدائی کی اجازت دیئے جانے کے خلاف کسان اور قبائلی افراد احتجاج کر رہے ہیں ۔ کانگریس قائدین کو اس سے قبل بھی علاقہ کے دورہ سے روک دیا گیا تھا ۔ کودنڈا ریڈی نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے کھدائی کی اجازت دیتے ہوئے مقامی عوام کی زندگی کو خطرہ میں ڈال دیا ہے۔ کھدائی کے سبب نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کا خطرہ ہے بلکہ پانی میں آلودگی کے سبب کئی بیماریاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسانوں کے مفادات کو نظر انداز کر رہی ہے۔ انسانوں کے علاوہ جانور بھی کھدائی کے سبب زندگی سے محروم ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک نے یورانیم کے لئے کھدائی پر پابندی عائد کردی ہے لیکن تلنگانہ حکومت نے عوام کے خلاف فیصلہ دیا ہے۔ کودنڈا ریڈی نے کہا کہ ان کی پارٹی کھدائی کیخلاف اپنا احتجاج جاری رکھے گی ۔
