یورانیم کے ذخیرے کی حد سے 10 یوم میں تجاوز: ایران

   

Ferty9 Clinic

تہران امریکی تحدیدات سے بے پرواہ، ایران کا نیوکلیئر پروگرام جاری رکھنے کا عزم

تہران۔17 جون (سیاست ڈاٹ کام) ایران یورانیم کے ذخیرہ اندوزی کے معاملے میں عالمی طاقتوں کے ساتھ تہران کی نیوکلیئر معاملت میں طے کردہ حد سے آئندہ 10 یوم میں تجاوز کر جائے گا، ملک کی اٹامک ایجنسی کے ترجمان نے آج یہ بات کہی اور انتباہ بھی دیا کہ ایران کو 20 فیصد تک یورانیم افزودگی کی ضرورت ہے جو ہتھیاروں کے گریڈ کی لیول سے قریب ہے۔ اس اعلان سے اشارہ ملتا ہے کہ ایران نے 2015ء کے تاریخی معاہدے کو توڑ دینے کا ذہن بنالیا ہے۔ ٹرمپ نظم و نسق میں گزشتہ سال اس معاملت سے امریکہ کو ہٹالیا تھا جس کے بعد سے اس معاملت کی افادیت مشکوک ہوگئی۔ ٹرمپ نے سخت معاشی تحدیدات بھی عائد کرتے ہوئے ایران کی معیشت کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔ ایران کی نیوکلیئر ایجنسی کے ترجمان بہروز کمال واندی نے یہ اعلان ایران کے ہیوی واٹر سنٹر میں مقامی صحافیوں کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اسے ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر براہِ راست نشر کیا گیا۔یہ تبدیلی خطہ میں گزشتہ ہفتے آئیل ٹینکروں پر مشتبہ حملوں کے تناظر میں دیکھی جارہی ہے۔ ان حملوں کے لیے واشنگٹن نے ایران کو مورد الزام ٹھہرایا ہے چنانچہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھ چکی ہے۔ صدر ٹرمپ کی طرف سے نیوکلیئر معاملت سے امریکہ کو یکطرفہ ہٹالینے کے ایک سال بعد اس طرح کے حالات پیدا ہوگئے ہیں۔ بہروز نے تسلیم کیا کہ ملک کمتر شدت کی افزودگی والا یورانیم معقول حد تک جمع کرلیا ہے بلکہ اسے چار گناہ تک بڑھالیا گیا ہے۔ ایران کو جنوبی بندرگاہ بوشہر میں واقع اپنے نیوکلیئر پاور پلانٹ کے لیے 5 فیصد افزودگی درکار ہے اور اسے تہران ریسرچ ریاکٹر کے لیے 20 فیصد افزودگی کی ضرورت بھی ہے۔ جب یورانیم کو برآمد کیا جاتا ہے تب اس میں عام طور پر تقریباً 140 ایٹم ہوتے ہیں۔ اسے خالص کیا جاتا ہے اور یہ عمل آگے بڑھتے ہوئے 90 فیصد تک پہنچ جائے تو اسے ہتھیاروں کے لیے کارآمد مادّہ سمجھا جاتا ہے جس کے بعد سے پڑوسی ملکوں کو تشویش شروع ہوجاتی ہے۔