گرین پاس میں عدم شمولیت ، ہندوستانی وزارت خارجہ کا یوروپین حکام سے ربط
حیدرآباد۔ مرکزی حکومت کی جانب سے ملک بھر میں کورونا وائرس ٹیکہ اندازی کے لئے چلائی جانے والی مہم کے دوران کروڑوں افراد کی جانب سے ٹیکہ لئے جانے کے درمیان یوروپی ممالک کے سیرم انسٹیٹیوٹ آف انڈیا کے تیار کردہ کووی شیلڈ ویکسین کو قبول نہ کئے جانے کے بعد شہریوں کا رجحان اب کووی شیلڈ سے بھی ہٹنے لگا ہے جبکہ اب تک بھارت بائیوٹیک کی تیار کردہ کو ویکسین کو عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے منظوری نہ دیئے جانے اور سفری دستاویزات میں کوویکسین کو قبول نہ کئے جانے کے سبب کووی شیلڈ کے علاوہ سپوٹنک فائیوSputnik-V حاصل کرنے پر توجہ دی جا رہی تھی۔ بیرون ملک سفر کیلئے لازمی ٹیکہ کے سبب ٹیکہ حاصل کرنے والوں کو فوری طور پر کووی شیلڈ حاصل کرنے کا مشورہ دیا جا رہا تھا کیونکہ بھارت بائیوٹیک کی تیار کردہ کو ویکسین کو فوری طور پر منظوری حاصل نہیں ہوئی ہے لیکن کہا جا رہاہے کہ جلد ہی کوویکسین کو بھی منظوری حاصل ہوجائے گی لیکن کروڑہا افراد کو جو کہ بیرونی سفر میں حائل ہونے والی رکاوٹ کو دور کرنے کیلئے کووی شیلڈ کا ٹیکہ حاصل کرچکے ہیں انہیں اب مایوسی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ کووی شیلڈ کو یوروپی ممالک نے اپنے گرین پاس میں شامل نہیں کیا ہے جو کہ تشویش کا باعث بننے لگا ہے۔ یوروپی یونین کی جانب سے گرین پاس میں جن ٹیکوں کو شامل کیا گیا ہے ان میں فائزر‘ ماڈرناکے علاوہ ویکس زیویریا شامل ہیں اور ان ٹیکوں کے علاوہ دیگر ٹیکوں بشمول سپوٹنک فائیو کو بھی اس فہرست میں شامل نہیں رکھا گیا ہے جو کہ یوروپی ممالک کے سفر کرنے والوں کے لئے مشکل کا سبب بننے لگا ہے۔ ذرائع کے مطابق ہندستانی وزارت خارجہ کی جانب سے یوروپین یونین سے اس سلسلہ میں رابطہ قائم کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ حکومت ہند یوروپین حکام سے اس بات کی خواہش کر رہی ہے کہ وہ جلد ہی دونوں ہندستانی ٹیکوں کو منظوری فراہم کریں تاکہ یوروپی ممالک کے سفر کے منتظر شہریوں کو مزید کسی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ بتایاجاتا ہے کہ حکومت ہند کی جانب سے یوروپین یونین کے حکام کو ’اسٹرازینیکا‘ کی جانب سے تیار کردہ ویکس زیویریا کو دی جانے والی منظوری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سیرم انسٹیٹیوٹ آف انڈیا نے بھی اسٹرازینیکا کے ساتھ ہی کووی شیلڈ تیار کیا ہے اسی لئے کووی شیلڈ کو فوری طور پر اڈہاک منظوری فراہم کی جائے تاکہ یوروپی ممالک کے سفر کرنے والوں کو راحت حاصل ہوسکے۔