واشنگٹن19 اکتوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) یوروپی یونین کی دھمکیوں کے باوجود امریکہ نے ایئربس سمیت دیگر مصنوعات پر 7 ارب 50 کروڑ ڈالر مالیت کی شرحیں عائد کردیں ۔اطلاعات کے مطابق ڈبلیو ٹی او کی جانب سے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی تجاویز کی توثیق کر دی گئی ہے جس سے چین سے تجارتی کشیدگی کے بعد ایک نیا محاذ کھل گیا ہے جو عالمی معیشت کیلئے تباہی کا موجب ہوسکتا ہے ۔عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے اجلاس میں شرکت کیلئے واشنگٹن میں موجود فرانس کے وزیر معاشی امور برونو لیمائر نے امریکی فیصلہ پر تنقید کی اور کہا کہ یہ جارحانہ قدم ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے ذریعہ حل نکالنے میں ناکامی پر جوابی ردعمل کو دعوت دینے سے عالمی معیشت سست ہوسکتی ہے ۔فرانسیسی وزیرنے کہا کہ عالمی معیشت کو سست کرنے کے علاوہ شرحوں میں اضافہ اور چین سے جاری تجارتی جنگ کے دوران یوروپی یونین سے تجارتی جنگ چھیڑنا غیر ذمہ دارانہ فعل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم بندوق کے ساتھ مذاکرات کرنا نہیں چاہتے کیونکہ جب آپ کے ہاتھ میں بندوق ہوتی ہے تو آپ کے پاس کوئی موقع نہیں ہوتا سوائے جواب دینے کے۔خیال رہے کہ امریکہ نے شرحوں میں اضافہ کا فیصلہ یوروپی یونین سے مذاکرات میں ناکامی کے فوری بعد کیا تھا۔امریکی فیصلہ کی زد میں زیادہ نقصان برطانیہ، جرمنی، فرانس اور اسپین کی ایئرلائن ایئر بس کو ہوگا جس پر سب سے زیادہ 10 فیصد اضافی شرح ہوگی ۔ ٹیرف میں شامل دیگر مصنوعات میں فرانس کی شراب بھی شامل ہے ۔ امریکہ نے فرانس، اسپین اور جرمنی سے درآمد شرگاب میں 25 فیصد ٹیرف عائد کردیا ہے ۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ یوروپی یونین تجارت کے معاملہ میں امریکہ کے ساتھ انصاف نہیں کررہے ہیں لیکن مذاکرات سے معاملات طے کرنے دروازے کھلے ہیں۔یوروپی یونین نے فوری ردعمل میں کسی قسم کے امریکی اقدام سے خبردار کردیا ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ‘اگر امریکہ، ڈبلیو ٹی او کی اجازت سے کوئی اقدام اٹھاتا ہے تو وہ یوروپی یونین کو اس موڑ کی طرف دھکیل دے گا جہاں ہمارے پاس اسی طرح کا جواب دینے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوگا۔اس کیس کا آغاز 2004 میں ہوا تھا جب امریکہ نے برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اسپین پر الزامات عائد کئے تھے کہ ایئر بس کی کئی مصنوعات میں تعاون کے لئے غیر قانونی سبسڈی دی گئی ہیں۔
سی این این کے خلاف مقدمہ : ٹرمپ کا انتباہ
واشنگٹن۔19 اکتوبر ۔( سیاست ڈاٹ کام ) معروف نشریاتی ادارہ سی این این کی مبینہ جانب دارانہ رپورٹنگ پر میڈیا گروپ کے خلاف امریکی صدر ٹرمپ نے ہرجانے کا دعویٰ دائر کرنے کا انتباہ دیا ہے ۔ ٹرمپ کے وکیل چارلس ہارڈر نے سی این این صدراور ایگزیکٹیو اسٹاف کو خط لکھ کر کہا کہ سی این این نے ٹرمپ کے مواخذہ پر جانب دارانہ رپورٹنگ کی اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ٹرمپ نے کہا کہ انہیں میڈیا سے غیر منصفانہ، بے بنیاد، غیر اخلاقی اور غیر قانونی حملوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ ٹرمپ کے وکیل نے سی این این کو خبردار کیا کہ اگر اس نے اپنی روش تبدیل نہ کی تو اس پر بھاری ہرجانے کا دعویٰ دائر کردیا جائے گا۔دوسری جانب سی این این نے ٹرمپ کے خط کو عوام میں مشہور ہونے کا حربہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے ۔خیال رہے سی این این اور صدر ٹرمپ کے درمیان اس سے پہلے بھی محاذ آرائی ہوتی رہی ہے ۔وائٹ ہاؤس نے سی این این کے نامہ نگار جم اکاسٹا اور ٹرمپ کے درمیان تلخ جملوں کے تبادلہ کے بعد جم اکاسٹا کا ایوان صدر میں رپورٹنگ کا اجازت نامہ منسوخ کردیا تھا، جس پر سی این این نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کردیا تھا۔