یوروپی یونین کے 10ممالک اومی کرون سے متاثر

,

   

برسلز : کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون نے یورپ میں پنجے گاڑنا شروع کردیے اور یورپی یونین کے 10رکن ممالک میں چند روز کے دوران ہی 42 کیس سامنے آچکے ہیں۔ یورپی مرکز برائے امراض کی سربراہ اینڈریا آمون نے ایک آن لائن کانفرنس میں بتایا کہ یورپی حکام مزید 6ممکنہ کیسوں کی تشخیص کے لیے تجزیہ کر رہے ہیں۔ ادھر جاپان نے اومی کرون کے پہلے کیس کی تصدیق ہونے کے بعد حکام نے وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات شروع کردیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ شخص جنوبی افریقی ملک نمیبیا سے حال ہی میں جاپان پہنچا تھا اور ٹوکیو کے ناریتا ہوائی اڈے پہنچنے کے بعد ٹیسٹ کے دوران اس میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔ دوسری جانب امریکی صدر جوبائیڈن نے کورونا کی نئی قسم سامنے آنے کے بعد لاک ڈاؤن نہ لگانے کا اشارہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اومی کرون تشویش کا باعث ہے لیکن گھبراہٹ کی وجہ نہیں۔ امریکہ میںلاک ڈاؤن کا آپشن موجود نہیں ہے اور ہم طور پر بھی ملک بند کرنے کی حمایت نہیں کریں گے۔ خبررساں اداروں کے مطابق کورونا وائرس کی نئی قسم کا دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلاؤ جاری ہے۔ عالمی ادارئہ صحت نے نئے وائرس کو دنیا بھر کے لیے خطرناک ترین قرار دے دیا ہے۔ نئی قسم کے انکشاف کے بعد دنیا کے مختلف ممالک نے جنوبی افریقہ پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں، جب کہ کئی ممالک میں ماسک سمیت دیگر احتیاطی تدابیر دوبارہ نافذ کر دی گئی ہیں۔ کئی ممالک نے اومی کرون سے نمٹنے کے لیے شہریوں کو ویکسین کے بوسٹر شاٹس لگانے کی بھی منظوری دے دی ہے۔ جرمنی، اٹلی، بلجیم اور نیدرلینڈز کے بعد اسپین اور پرتگال میں وائرس کی نئی قسم کے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ پرتگال میں اومی کرون کے 13 کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔