برسلز ۔ 10 مئی (ایجنسیز) یورپی پارلیمان نے یورپی یونین کے رکن ممالک میں بھیڑیوں کے شکار کو آسان بنانے کا ایک منصوبہ منظور کر لیا ہے۔ اس فیصلے کی وجہ بھیڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان خونخوار درندوں سے مویشیوں کو لاحق خطرات بنے ہیں۔ یورپی پارلیمان نے حال ہی میں بھڑیے کی قانونی حیثیت میں تبدیلی کی منظوری دے دی۔ یعنی اس جانور کے تحفظ کے لیے سخت قوانین نافذ العمل ہیں، جنہیں اب بدلنے کی منظوری مل گئی ہے۔ یورپی یونین کے رکن ممالک نے گزشتہ ماہ ہی اس قانون کو منظور کر لیا تھا لیکن اب یورپی پارلیمان میں اس کی منظوری سے اس کے نفاذ کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ یورپی یونین میں بھیڑیوں کے شکار پر سخت پابندی عائدتھی۔ لیکن یورپی جنگلی حیات اور قدرتی مساکن کے تحفظ سے متعلق بیرن کنوینشن میں ہونے والی ترمیم کے نتیجے میں ان جانداروں کے شکار کو آسان بنا دیا گیا ہے۔ اس ترمیم کی بدولت یورپی یونین کے رکن ممالک اپنی اپنی ضرویات کے مطابق بھیڑیوں کے شکار کی اجازت دے سکیں گے تاہم وہ یہ بھی یقینی بنائیں گے کہ ان جانوروں کی نسل ختم نہ ہو۔ بھیڑیوں کے شکار کا ایک مخصوص موسم مقرر کیا جائے گا تاکہ ان کے تولیدی سیزن کو متاثر نہ کیا جائے۔