پیرس، 28 نومبر (یو این آئی) فرانس، برطانیہ، جرمنی اور اٹلی نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے ہاتھوں فلسطینی شہریوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے خطے میں عدم استحکام کا باعث اور سلامتی کی کوششوں کیلئے خطرہ قرار دیا ہے ۔ چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ جنہیں اجتماعی طور پر ‘ای 4’ کہا جاتا ہے -نے اپنے مشترکہ بیان میں اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ حالیہ ہفتوں میں آبادکاروں کے حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے ہم آہنگیِ انسانی امور (او سی ایچ اے ) کے مطابق صرف اکتوبر میں 264 آبادکار حملے ریکارڈ کیے گئے ، جو 2006 میں مانیٹرنگ کے آغاز کے بعد سے ایک ماہ میں سب سے زیادہ تعداد ہے ۔ وزرائے خارجہ نے کہا کہ ”یہ حملے بند ہونے چاہئیں”، اور خبردار کیا کہ یہ تشدد نہ صرف شہریوں میں خوف پھیلا رہا ہے بلکہ امن کی کوششوں اور خود اسرائیل کی طویل المدت سلامتی کیلئے بھی خطرات پیدا کر رہا ہے ۔ انہوں نے اسرائیلی حکومت پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے ۔ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی قیادت کی جانب سے کی جانے والی مذمتوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ضروری ہے ۔ ای4 ممالک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ حملہ آوروں کے خلاف احتساب یقینی بنائے اور تشدد کے ‘بنیادی اسباب’ کا خاتمہ کرے ۔ وزرائے خارجہ نے کسی بھی قسم کے الحاق – “جزوی، مکمل یا عملی طور پر” – کی مخالفت کا اعادہ کرتے ہوئے اسرائیلی توسیعِ آبادی کی پالیسیوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ مزید برآں، انہوں نے خبردار کیا کہ فلسطینی اتھارٹی کی مزید کمزوری غزہ میں مستقبل کی حکمرانی کے امکانات کو نقصان پہنچائے گی۔ وزرائے خارجہ نے اپنے بیان میں مذاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل کی حمایت بھی دوہرائی۔