امریکی صدر ٹرمپ ایران پر زور دار اور فیصلہ کن حملہ چاہتے ہیں‘ امریکی میڈیا کی رپورٹ
تہران۔15؍جنوری ( ایجنسیز )ایران میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر امریکہ کے بعد اسپین، پولینڈ اور اٹلی نے بھی اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ایران میں تقریباً 600 اطالوی شہری موجود ہیں جن کی اکثریت دارالحکومت تہران میں مقیم ہے۔ وزارت نے اپنے بیان میں شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ موجودہ حالات کے باعث جلد از جلد ایران سے نکلنے کی کوشش کریں۔پولینڈ کی وزارتِ خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں اپنے شہریوں کو فوری انخلا کا مشورہ دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ نے ایران میں موجود اپنا تمام سفارتی عملہ کو واپس بلا لیا ہے اور برطانوی سفیر کو بھی تہران سے طلب کر لیا گیا ہے۔اسی طرح جرمنی نے اپنے طیاروں کو ایرانی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔ ادھر تہران میں ہندوستانی سفارتخانے نے بھی اپنے شہریوں کو بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر دستیاب ذرائع نقل و حمل کے ذریعے ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ دوسری طرف امریکی میڈیا کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران پر زور دار اور فیصلہ کن حملہ چاہتے ہیں۔امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ڈونالڈ ٹرمپ طویل جنگ کے بجائے مختصر لیکن فیصلہ کن کارروائی چاہتے ہیں۔ادھر اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی آرمی چیف نے فوری ’دفاعی‘ تیاریوں کا حکم دے دیا۔ شمالی اسرائیل سمیت مخلتف علاقوں میں بم شیلٹر کھلنا شروع ہو گئے ہیں۔اسرائیلی میڈیا نے کہا کہ اسرائیل توقع کر رہا ہے امریکہ ایران پر حملوں سے قبل وارننگ دے گا۔واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران میں بڑے پیمانے پر پھانسیوں کا کوئی منصوبہ نہیں۔ یہ معلومات دوسری طرف کے بہت اہم ذرائع سے موصول ہوئی ہیں کہ ہلاکتیں رک گئی ہیں اور پھانسیاں نہیں ہوں گی۔دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ قطر میں امریکی فوجی ایئر بیس العدید سے کچھ اہلکاروں کو نکلنے کا حکم دے چکی ہے جبکہ برطانیہ نے بھی قطر کے امریکی فوجی اڈے سے اپنا عملہ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔علاوہ ازیں امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران میں امن قائم ہے، صورت حال مکمل قابو میں ہے۔انہوں نے کہا کہ جون جیسی غلطی دوبارہ نہ دہرائیں، ورنہ وہی نتیجہ نکلے گا جو پہلے نکلا تھا، عزم کو بمباری سے توڑا نہیں جا سکتا۔