برسلز : یورپی یونین نے کہا ہے کہ ہم، ترکیہ کے ساتھ تعاون کو مختصر مدّت میں مزید فروغ دینے اور اختلافات کو ختم کرنے کا ہدف رکھتے ہیں۔یورپی یونین ممالک کے وزرائے خارجہ کا غیر سرکاری اجلاس یونین کے ٹرم چیئر مین ملک بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں منعقد ہوا۔اجلاس کے ایجنڈے کے موضوعات میں سے ایک ترکیہ کے ساتھ باہمی تعلقات تھا۔ اجلاس کے اختتام پر یورپی یونین کے ہائی کمیشنر برائے خارجہ تعلقات و سلامتی پالیسی جوزف بوریل اور بیلجیئم کی وزیر خارجہ حجہ لحبیب نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔پریس کانفرنس سے خطاب میں بوریل نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے تمام رکن ممالک ترکیہ کے ساتھ مزید قریبی تعلقات قائم کرنے پر متفق ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ “ہمارا، جھڑپوں سے پرہیز کرنا اور زیادہ قریبی تعاون کیلئے مسئلہ قبرص پر توجہ مرکوز کر کے، ترکیہ کے ساتھ رابطہ قائم کرنا ضروری ہے۔ ترکیہ کے ساتھ تعلقات کو مزید فروغ دینا، مشترکہ مفادات کے شعبوں میں کام کرنا اور ہمیں ایک دوسرے سے دور کرنے والے مسائل سے پرہیز کرنا ضروری ہے”۔یورپی یونین کے ترکیہ کیلئے ویزہ معافی جیسے موضوعات میں پیش رفت کے لئے تیار ہونے یا نہ ہونے سے متعلق سوال کے جواب میں بوریل نے کہا ہے کہ ہمیں ترکیہ کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کے موضوع پر اتفاق ہے لیکن یہ فروغ حالات کی نہج پر منحصر ہو گا۔ ویزہ معافی کے معاملے میں کیا ہوگا، اس بارے میں میں کْلّی معلومات نہیں رکھتا۔ آج کے اجلاس میں اس موضوع پر بات نہیں کی گئی”۔بلجیم کی وزیر خارجہ لحبیب نے بھی کہا ہے کہ ترکیہ عالمی پلیٹ فورم پر بتدریج ایک مضبوط اسٹریٹجک اتحادی کی شکل میں اْبھر رہا ہے۔ ترکیہ ہمارا ایک ناگزیر ساجھے دار ہے۔ ہم یورپی یونین کے توسیعی سال 2004 کی 20 ویں سالانہ تقریبات میں ترکیہ کو بھی مدعو کریں گے”۔واضح رہے کہ 2004 میں 10 ممالک کو یورپی یونین کی رکنیت دی گئی تھی۔
