پیرس: فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ فرانس اور دیگر یورپی ممالک غزہ کے تنازعہ میں زخمی ہونے والے بچوں کو طبی علاج فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں۔ میکرون نے یہ بات جمعرات کو اردن کے شہر عقبہ میں اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم سے ملاقات کے دوران کہی۔اردنی خبر رساں ایجنسی پیٹرا نے میکرون کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ فرانس غزہ کے کینسر میں مبتلا بچوں کو فرانسیسی اسپتالوں میں علاج کی پیشکش کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میکرون نے دو ریاستی حل کی بنیاد پر غزہ کی پٹی میں امن تک پہنچنے کیلئے کام کرنے کیلئے اردن کی کوششوں کی تعریف کی اور غزہ کو انسانی امداد کی ترسیل کو بڑھانے کیلئے بین الاقوامی رابطہ کاری کو بڑھانے میں اردن کی حمایت کی۔رپورٹ کے مطابق میکرون نے غزہ کی پٹی میں اپنے دو فیلڈ ہسپتالوں کے ذریعے غزہ کے لوگوں کو امداد اور طبی علاج فراہم کرنے کیلئے عمان کی کوششوں کا بھی خیر مقدم کیا۔اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ کے دوران فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون دوسری بار مشرق وسطیٰ میں ہیں۔ انہوں نے اس سے قبل ماہ اکتوبر میں بھی اسرائیل وغیرہ کا دورہ کیا تھا۔ وہ جمعرات کے روز اسرائیل میں ملاقاتیں مکمل کرنے کے بعد اردن پہنچ گئے ۔انہوں نے اردن کے شاہ عبداللہ سے شاہی محل میں خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے ۔ فرانس بھی اسرائیل کا اہم اتحادی ملک ہے ۔ میکرون نے اپنے پچھلے دورے میں اسرائیل کے ساتھ کندھے کندھا ملا کے کھڑے ہونے کا اعلان کیا تھا۔تاہم اب 8 ہزار فلسطینی بچوں اور6200عورتوں سمیت 20 ہزار سے زائد ہو چکی شہادتوں کے بعد حمایت جاری رکھنے کے باوجود لہجہ قدرے بدل دیا گیا ہے ۔ماہ اکتوبر سے اب تک یہ میکرون اور شاہ عبداللہ کے درمیان دوسری ملاقات ہے ۔ اس دوران غزہ کی مکمل تباہی کا عمل مکمل ہو گیا ہے ۔ ہزاروں ہلاکتوں کے علاوہ 20 لاکھ فلسطینی اسرائیلی بمباری سے بے گھر ہو کر نقل مکانی کے دوران پانی کی بوند بوند اور روٹی کے نوالے کیلئے پریشان ہیں۔تاہم اہم عالمی طاقت اور اس کے بڑے مغربی اتحادیوں سے اسرائیل کو ہر طرح کی فوجی و سفارتی امداد میسر رہنے کے باوجود ابھی تک حماس کا خاتمہ کرنے میں اسرائیل اور اس کی فوج کامیاب نہیں ہوسکی، حتیٰ کہ اسرائیلی یرغمالیوں میں سے ایک کو بھی اسرائیلی فوج اپنی طاقت کے ذریعے نہیں چھڑا سکی ہے ۔