یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا دورۂ کیف اور حمایت کا اعلان

   

بلاک کی سرحدوں سے باہر نکل کر پہلی بار وزرائے خارجہ میٹنگ کیلئے یکجا ہونا تاریخی اہمیت کا حامل

برسلز: یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے روس کے حملے کے پیش نظر یوکرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے کیف کا سفر کیا۔ تاہم ان کا یہ دورہ ایک ایسے وقت ہوا، جب مغربی اتحاد میں دراڑیں پڑنے کا خطرہ دکھائی دے رہا ہے۔یورپی یونین کے اعلیٰ سفارت کار جوسیپ بوریل کے دورہ کیف کے مطلوبہ مقاصد بالکل واضح تھے، جہاں وہ یوکرین کے وزیر خارجہ دیمیترو کولیبا کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوئے اور اس دورے کو ”تاریخی” قرار دیا۔پہلی بار یورپی یونین کے وزرائے خارجہ بلاک کی سرحدوں سے باہر نکل کر کیف میں میٹنگ کے لیے جمع ہوئے۔ اس موقع پر بوریل نے کہا کہ ابھی تو یوکرین یورپی یونین سے الحاق کا ابتدائی امیدوار ہے، تاہم ایک دن یہ اس بلاک میں صف اول کا ساتھی ہو گا۔بوریل نے بات چیت کے آغاز سے پہلے ایکس (ٹوئٹر) پر لکھا، ”ہم یہاں یوکرین میںیورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا ایک تاریخی اجلاس کر رہے ہیں۔ ہم یوکرینی عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی اور حمایت کے اظہار کے لیے یہاں موجود ہیں۔”اس موقع پر جرمن وزیر خارجہ اینالینا بیئربوک نے آنے والے موسم سرما کے مہینوں میں یوکرین کو روسی بمباری کے خلاف ایک ”حفاظتی ڈھال” کی پیشکش کرنے کی بات کی۔فرانس کی وزیر خارجہ اور یورپی امور کی وزیر کیتھرین کولونا نے روس کو خبردار کیا کہ اسے ”ہماری تھکن پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔ ہم آنے والے دنوں میں ایک طویل عرصے تک وہاں رہیں گے۔”واضح رہے کہ یوکرین پر روسی حملے کے 18 ماہ سے بھی زائد عرصے کے بعد بھی اس تنازعے کا کوئی واضح اختتام نظر نہیں آ رہا ہے، جبکہ جون میں یوکرین نے بھی روس کے خلاف جوابی کارروائی شروع کر دی۔کیف میں یورپی یونین نے یہ واضح کیا کہ وہ یوکرین کے ساتھ کھڑا ہے۔ بلاک کے اداروں اور حکومتوں نے اجتماعی طور پر یوکرین کے لیے 136.4 بلین ڈالر سے زیادہ کی فوجی، مالی اور انسانی امداد کا وعدہ کیا ہے۔ایک غیر منافع بخش تھنک ٹینک ‘انسٹیٹیوٹ فار دی ورلڈ اکنامی’ کے مطابق تنہا جرمنی نے تقریباً 20 بلین یورو کا وعدہ کیا ہے۔ امریکہ نے بھی تقریباً 60 بلین یورو دینے کا وعدہ کر رکھا ہے۔لیکن مستقبل میں اس مغربی حمایت پر سوالیہ نشان بھی لگ گیا ہے۔ اتوار کے روز ہی سلوواکیہ کے انتخابات میں روس نواز رابرٹ فیکو نامی امیدوار کافی مقبول ثابت ہوئے، جنہوں نے اپنی مہم کے دوران یوکرین کی فوجی حمایت ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔اگر رابرٹ فیکو اگلی مخلوط حکومت کی قیادت کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں اور اپنے وعدوں کو پورا کرتے ہیں، تو سلواکیہ کیف کے لیے امداد کی منظوری کو روکنے کے لیے ہنگری کا ساتھ دے سکتا ہے۔یہاں تک کہ پولینڈ، جو یوکرین کے قریبی حمایتیوں میں سے ایک ہے، نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ وہ کیف کو ہتھیار بھیجنا بند کر دے گا۔ تاہم بعد میں وزیر اعظم میٹیوز موراویکی نے فوری طور پر وضاحت پیش کی اور کہا کہ ان کے تبصروں کی غلط تشریح کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اب نئے ہتھیار بھیجنا بند کردے گی۔وارسا نے یہ قدم اناج کی برآمدات پر یوکرین کے ساتھ شدید اختلاف اور تناؤ کے درمیان اٹھایا ہے۔ پولینڈ میں بھی انتخابات ہونے والے ہیں اور موراویکی کی دائیں بازو کی لا اینڈ جسٹس پارٹی (پی آئی ایس) کسان ووٹروں پر زیادہ انحصار کرتی ہے اور ملک کے کاشتکار یوکرین کے سستے اناج کی درآمد سے بہت زیادہ متاثر ہیں۔
امریکہ نے بھی بجٹ سے متعلق سخت مذاکرات کے دوران یوکرین کو دی جانے والی امداد کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ حکومتی شٹ ڈاؤن سے بچنے کے لیے جس بجٹ پر بات ہوئی ہے، اس میں یوکرین کے لیے امداد کی پیش گوئی نہیں کی گئی ہے۔ تاہم صدر جو بائیڈن ابھی بھی حل تلاش کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ادھر یوکرین کے وزیر خارجہ کولیبا نے پیر کے روز ان خدشات کو کم کرنے کی کوشش کی۔ خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق انہوں نے کہا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ واشنگٹن کی حمایت ختم ہو رہی ہے۔ سلوواکیہ کے انتخابات کے بارے میں، کولیبا نے کہا کہ یہ کہنا بہت جلد ہو گا کہ بریٹیسلاوا میں نئی حکومت کیف کو دی جانے والی فوجی امداد پر کیا موقف اختیار کرے گی۔