یروشلم: یوکرین جنگ کی وجہ سے یورپ روسی فوسل ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے پر تول رہا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل گیس کے اس خلا کو اپنے سمندری ذخائر سے پرکرنے کا خواہش مند ہے۔یورپی یونین کی ریاستیں ٹائم ٹیبل کے حوالے سے منقسم ہیں لیکن یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈئیر لائن کے مطابق انہیں امید ہے کہ یورپی یونین سن 2027 تک روسی گیس، تیل اور کوئلے پر انحصار ختم کر دے گی۔ حکام اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل ممکنہ طور پر یونان یا ترکی کے راستے ایک یا زیادہ پائپ لائنیں تعمیر کر سکتا ہے۔دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ مصر کی مہیا کی جانے والی گیس کی مقدار میں اضافہ کرے تاکہ وہاں سے مائع گیس بحری جہازوں کے ذریعے یورپ تک پہنچائی جائے۔اسرائیلی وزیر خارجہ یائیر لاپیڈ نے یونان کے حالیہ دورے کے بعد کہا تھا کہ یوکرین کی جنگ یورپ اور مشرق وسطیٰ کی توانائی کی منڈی کے ڈھانچے کو تبدیل کر دے گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم توانائی کی منڈی پر زور دیتے ہوئے اضافی اقتصادی تعاون کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔اسرائیل گیس کی برآمد کے نئے راستے بنانے کے لیے برسوں سے کام کر رہا ہے لیکن اس کے اب تک ملے جلے نتائج سامنے آئے ہیں۔