یومِ جمہوریہ کی مرکزی تقریب میں یورپی قیادت کی شرکت

,

   

اُرسولا وان ڈیر لیئن نے زندگی کا سب سے بڑا اعزاز قرار دیا، آج یورپی یونین سربراہی اجلاس
نئی دہلی ۔ 26؍جنوری ( ایجنسیز )ہندوستان نے آج اپنا 77واں یومِ جمہوریہ پورے قومی وقار اور جوش و خروش کے ساتھ منا یا۔ اس موقع پر دہلی میں منعقدہ مرکزی تقریب میں یورپی یونین کی اعلیٰ قیادت نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی جسے ہندوستان اور یورپ کے تعلقات میں ایک اہم پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا وان ڈیر لیئن اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو لوئس سانتوس دا کوسٹا اس تاریخی تقریب میں شریک ہوئے۔یومِ جمہوریہ کی تقریب میں شرکت کے بعد اُرسولا وان ڈیر لیئن نے اس موقع کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز قرار دیا۔یورپی لیڈر کاجا کلاس نے بھی حصہ لیا۔ ان قائدین نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ یومِ جمہوریہ کی تقریب میں مہمانِ خصوصی کے طور پر مدعو کیا جانا اِن کیلئے باعثِ فخر ہے۔ اِن کے مطابق ایک مضبوط اور کامیاب ہندوستان نہ صرف اپنے عوام بلکہ پوری دنیا کے لیے استحکام، خوشحالی اور سلامتی کا ذریعہ بنتا ہے جس سے عالمی برادری کو مجموعی فائدہ پہنچتا ہے۔یورپی یونین کے دونوں سینئر رہنما اس وقت ہندوستان کے سرکاری دورے پر ہیں۔ اس دورے کے دوران 27 جنوری کو سولہواں ہندوستان۔یورپی یونین سربراہی اجلاس منعقد ہوگا، جس کی میزبانی وزیر اعظم نریندر مودی کریں گے۔ اس اجلاس میں تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال متوقع ہے، جبکہ دونوں فریقین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کے اعلان کے امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ عالمی سیاسی منظرنامہ میں یورپی ممالک طویل عرصے سے امریکہ کے قریبی شراکت دار رہے ہیں۔ یورپی یونین اور امریکہ مل کر عالمی معاشی پیداوار کے 40 فیصد سے زائد اور عالمی تجارت کے تقریباً ایک تہائی حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ تاہم امریکی قیادت میں تبدیلی اور تجارتی محصولات سے متعلق سخت پالیسیوں کے باعث بین الاقوامی تعلقات پر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ایسے حالات میں یورپ ہندوستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں گہری دلچسپی لے رہا ہے اور اسے ایک قابلِ اعتماد اور مستحکم شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔دہلی میں قیام کے دوران یورپی رہنماؤں کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ یومِ جمہوریہ کی تقریب میں شرکت سے قبل اُرسولا وان ڈیر لیئن اور انتونیو کوسٹا نے ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات بھی کی۔ وزیر خارجہ نے اس ملاقات کو ہندوستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں ایک نئے دور کی بنیاد قرار دیا۔یورپی یونین میں ہندوستان کی سابق سفیر بھاسوتی مکھرجی نے کہا کہ یورپی یونین اب ہندوستان کو نئے عالمی نظام میں ایک قیمتی شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے ۔تجارتی محاذ پر ایک عہدیدار نے تصدیق کی کہ 15 ہزار یورو (تقریباً 16 لاکھ روپئے ) سے زائد قیمت والی پٹرول اور ڈیزل کاروں پر ڈیوٹی کو موجودہ 70 سے 110 فیصد سے کم کرکے نصف کرنے پر اتفاق ہو سکتا ہے ۔ تاہم، ہندوستان کی ابھرتی ہوئی الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کے تحفظ کیلئے بیٹری سے چلنے والی گاڑیوں کو پانچ برس تک اس معاہدے سے باہر رکھا جائے گا۔پیر کے روز 77ویں یومِ جمہوریہ کی پریڈ میں ہندوستان کی فوجی اختراعات، جیسے سوریہ استر میزائل لانچر اور مقامی طور پر تیار کردہ جولٹ ڈرون کی نمائش کی گئی، جس کے دیدار کوسٹا اور وان ڈیر لیئن نے صدر دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ کئے ۔ بھاسوتی مکھرجی نے کہا کہ آج کی دنیا میں صرف سافٹ پاور کام نہیں کرتی، اسی لیے یورپ اب اپنی فوجی صلاحیتوں میں اضافے پر توجہ دے رہا ہے ۔