صدر اور وزیراعظم پاکستان کے پیغامات سے یوم آزادی تقاریب کی شروعات
نئی دہلی ۔14 اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان کا 73 ویں یوم آزادی چہارشنبہ کے دن پاکستانی ہائی کمیشن کے احاطہ میں منایا گیا جس کے دوران اس کے کارکرد ہائی کمشنر سید حیدر شاہ نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے روانہ کردہ پیغام کو پڑھ کر سنایا ۔ عمران خان کا پیغام ایسے وقت پڑھ کر سنایا گیا جب ہندوستان اور پاکستان دونوں ممالک میں ہندوستان کی جانب سے جموں و کشمیر کے خصوصی موقف کو ختم کردینے اور اسے دور کر کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کردیا گیا ہے ۔ ہندوستان کے اس اقدام پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان نے باہمی تعلقات کا درجہ گھٹا دیا ہے اور اسلام آباد میں تعینات ہندوستان کے سفیر اجئے مہاریہ کو ملک سے خارج کردیا ۔ پاکستان نے اس بات کا بھی فیصلہ کیا کہ وہ اپنے نوتقرر کردہ ہائی کمشنر معین الحق کو ہندوستان روانہ نہیں کرے گا ۔ ہندوستان نے جموں و کشمیر پر اپنے حالیہ فیصلہ کو برقرار رکھا اور اسے اپنا اندرونی معاملہ قرار دیا اور اسلام آباد پر زور دیا کہ وہ سفارتی تعلقات کا درجہ گھٹانے کے اپنے فیصلہ پر نظرثانی کرے ۔ تاہم پاکستان کے کارکرد ہائی کمشنر نے کہا کہ 73واں یوم آزادی بہادر کشمیریوں کے ساتھ اور ان کی جدوجہد کے ساتھ یگانگت کے طور پر پاکستانی حکومت کے فیصلہ کے مطابق منایا جارہا ہے ۔ پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ 14 اگست کے دن کو ’’ کشمیر کے ساتھ اظہار یگانگت ‘‘ کے دن کے طور پرمنائے گا اور 15 اگست کو ’’ یوم سیاہ ‘‘ منایا جائے گا ۔ کارکرد پاکستانی ہائی کمشنر نے ہائی کمشنر کی عمارت کے سبزہ زار پر پاکستانی جھنڈا لہرا کر تقریر کی شروعات کی ۔ انہوں نے ہائی کمیشن کے خاندان کے افراد اور پاکستانی طلبہ جو جنوب ایشیائی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں ان کی ستائش کی اور انہیں تہنیت بھی پیش کی ۔ پاکستانی یوم آزادی کی تقاریب میں پاکستانی خاندانوں اور طلبہ نے شرکت کی ۔ کارکرد ہائی کمشنر نے پاکستانی صدر عارف علوی کا پیغام بھی حاضرین کو پڑھ کر سنایا جس میں صدر پاکستان نے پاکستانی عوام سے اتحاد اور یکجہتی کو برقرار رکھنے پر زور دیا ، تاکہ پاکستانی قوم کو درپیش چیلنجوں کا سامنا کیا جاسکے ۔