کووڈ تحدیدات میں نرمی، قومی پرچموں کی قلت، لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا سے زیادہ سے زیادہ قومی پرچم فراہم کرنے کی اپیل
سرینگر ۔ یوم آزادی کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر 15 اگست کو جموں و کشمیر کی سرکاری عمارتوں اور تقریباً 23000 اسکولس میں ترنگا پرچم لہرایا جائے گا۔ یاد رہے کہ تمام سرکاری اداروں کے لئے قومی پرچم لہرانا لازمی ہے۔ علاوہ ازیں مرکز کے زیر انتظام اس علاقے میں تمام طبی مراکز (ہاسپٹلس وغیرہ) کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پرچم کشائی کی ریہرسل کی ویڈیوز بھی اپ لوڈ کریں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ ایک طرف جہاں کووڈ کی وجہ سے تعلیمی ادارے طویل عرصہ سے بند پڑے ہیں وہیں گزشتہ چند دنوں سے ان تعلیمی اداروں میں یوم آزادی کی تقریبات منانے کے لئے ریہرسل کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلہ میں حکومت نے بھی پرچم کشائی کے لئے نئے رہنمایانہ خطوط بھی جاری کئے ہیں۔ یوم آزادی کی تقریبات تمام اسکولس میں منائی جائیں گی اور تمام سی ای اوز، پرنسپلز اور ہیڈماسٹرس کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے اسکولس میں پرچم کشائی کی تقریب کو یقینی طور پر منعقد کریں۔ حکومت کے ایک فرمان کے مطابق تقریبات کے تمام ویڈیوز اور تصاویر کو گوگل ڈرائیو میں اپ لوڈ کیا جائے گا۔ یوم آزادی کی تقریبات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے وادی میں کووڈ تحدیدات میں بھی نرمی کا اعلان کیا ہے اور اب ہر تقریب میں 25 افراد کو شرکت کی اجازت رہے گی۔ قبل ازیں بی جے پی ترجمان الطاف ٹھاکر نے کہا کہ وادی کشمیر میں قومی پرچموں کی قلت ہے۔ انہوں نے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا سے خواہش کی کہ موصوف وادی میں مزید قومی پرچموں کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ انہوںنے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ وادی میں ہر کوئی خصوصی طور پر تعلیمی ادارے قومی پرچم لہرانے کے لئے بے چین ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں قومی پرچم دستیاب نہیں ہیں۔ منوج سنہاجی سے یہی درخواست ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں قومی پرچموں کی دستیابی کو یقینی بنائیں جس کے لئے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرس سے تمام لوگ رابطہ کرسکتے ہیں۔ گزشتہ ایک سال سے قومی پرچم لہرانے کا کام فوج کررہی ہے۔ اگست 2019 میں جموں و کشمیر کی دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کے بعد اجتماعی طور پر پرچم کشائی کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ وادی میں حالات معمول پر لوٹ آئے ہیں۔