منتخب 42 اساتذہ میں ایک بھی مسلم نہیں ، ناانصافیوں کی شکایت
حیدرآباد۔6۔ ستمبر ۔(سیاست نیوز) ملک کی نمبر ون سیکولر ریاست تلنگانہ میں محکمہ تعلیم اساتذہ کے متعلق مسلسل متعصبانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہے اور حکومت کی جانب سے ’یوم اساتذہ ‘ پر سرکاری اسکولوں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کو دیئے جانے والے ایوارڈس میں مسلم اساتذہ کے ساتھ ناانصافیوں کی شکایات کے باوجود اس سال بھی انہیں ایوارڈ سے محروم رکھاگیا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے 5 ستمبر کو یوم اساتذہ کے موقع پر دیئے جانے والے ایوارڈس کے لئے جملہ 54 اساتذہ کا انتخاب عمل میں لایا گیا جن میں لکچرر‘ ایس جی ٹی ‘ پی جی ٹی ‘ اسکول اسسٹنٹ ‘ پرنسپل ‘ رہائشی اسکولوں میں خدمات انجام دینے والے جملہ 42 اساتذہ کو ایوارڈس دیئے گئے جن میں ایک بھی مسلم برسر خدمت استاذ کا نام موجود نہیں ہے اور اس کے علاوہ خصوصی زمرہ میں 12 ایوارڈس دیئے گئے جن میں محض ایک مسلم استاذ کو شامل کیا گیا ہے۔ریاستی حکومت کی جانب سے مسلمانوں کے ساتھ انصاف اور انہیں دیگر طبقات کے مطابق مساوری حقوق کی فراہمی کے دعوے کئے جاتے ہیں لیکن محکمہ تعلیم کی جانب سے مسلسل مسلم اساتذہ کو ایوارڈس سے محروم کیا جا رہاہے اور اس جانب توجہ دہانی کے باوجود محکمہ میں خدمات انجام دینے والے اعلیٰ عہدیداروں کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔سال گذشتہ یعنی 2022 میں بھی ریاستی حکومت کے محکمہ تعلیم کی جانب سے ریاست میں بسٹ ٹیچر ایوارڈس جو حکومت کی جانب سے دیئے جاتے ہیں ان میں مسلمانوں اور اردو اساتذہ کو محروم رکھاگیا تھا اور اس وقت جب استفسار کیا گیا تھا تو یہ کہتے ہوئے اس بات کو نظرانداز کیا گیا کہ آئندہ اس بات کا خیال رکھا جائے گا لیکن جاریہ سال بھی ریاستی حکومت کے محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کئے گئے جی او آر ٹی 133 جو کہ 2ستمبر2023کو جاری کیا گیا تھا اور گذشتہ یوم اس فہرست میں منتخبہ اساتذہ کو ایوارڈس بھی دیئے گئے اس میں بھی محض ایک مسلم مدرس کا نام شامل رکھا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق سال گذشتہ ایوارڈ یافتگان کی فہرست سے متعلق جی او کے قبل از وقت منظر عام پر آنے سے ہونے والے مسائل کو نظر میں رکھتے ہوئے اس جی اوکو خفیہ رکھنے کے اقدامات کئے گئے تھے اور یوم اساتذہ تقریب کے بعد ہی اس جی کو منظر عام پر لایا گیا جس میں محض ایک مسلم استاذ کو ایوارڈ دیا گیا ہے۔م