یوم اقلیتی بہبود سے حکومت کی عدم دلچسپی ، مسلمانوں کو مایوسی

   

عادل آباد میںکلکٹر سے نمائندگی بھی بے فیض ، سرکاری حکم نامہ نہ ملنے ایم پی ڈی او کا بہانہ

عادل آباد ۔ بتکماں کی ساڑیاں تقسیم کرنے میں دلچسپی لینے والی ریاستی حکومت کو مجاہد آزادی و ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کی یوم پیدائش تقریب جس کو یوم اقلیتی بہبود اور یوم تعلیم تصور کیا جاتا ہے ۔ اس تقریب کو منانے میں عدم دلچسپی کے بناء پر مسلمانوں میں مایوسی پائی جارہی ہے ۔ جبکہ سابق میں عادل آباد میں مشاعرہ کااہتمام کیا گیا تھا جس میں ملک کے نامور شعرائے کرام نے حصہ لیا ۔ مولانا آزاد جو ایک شاعر کے علاوہ صحافتی میدان میں اہمیت کے حامل تصور کئے جاتے تھے جس کو ملحوظ رکھتے ہوئے شعراء کرام ، صحافیوں کو شال پوشی گلپوشی کے ذریعہ تہنیت کرتے ہوئے مولانا آزاد کو خراج عقیدت پیش کی گئی تھی ۔ 11 نومبر کو منائی جانے والی اس جشن تقریب کو محسوس کرتے ہوئے تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹ عادل آباد کی جانب سے عادل آباد ضلع کلکٹر شریمتی ایس پٹکنائک کو ایک تحریری یادداشت ایک ہفتہ قبل پیش کی گئی تھی جس کے کوئی موثر نتائج برآمد نہیں ہوسکے ۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ عادل آباد
DMWO
نے حکومت کی جانب سے کسی بھی طرح کی اطلاع نہ ہونے کا بہانہ بناتے ہوئے فائل ضلع کلکٹر کو واپس لوٹا دی گئی ۔ جبکہ مولانا آزاد یوم پیدائش تقریب کو گورنمنٹ میناریٹیز ریسیڈنشیل اسکولس میں اساتذہ نے اپنے طور پر مناتے ہوئے اس روایت کو جہاں ایک طرف برقرار رکھا وہیں دوسری طرف مستقر عادل آباد کے درالانصار ویلفیر سوسائٹی اور
TUWJAU
تنظیم نے KRK کالونی کے اولڈ ایج ہوم میں اس تقریب کا اہتمام کرتے ہوئے ضعیف العمر افراد میں فروٹ تقسیم کئے ۔ دارالانصار سوسائٹی کے صدر قاضی محمد ندیم الدین ، حافظ عارف خان ، حافظ عطاء اللہ خان ، محمد منہاج محسن پٹیل کے علاوہ جرنلسٹ یونین تنظیم صدر شاہد احمد ، شفیق احمد ، عصمت علی ، خضر احمد یافعی ، محمد محسن بھی موجود تھے ۔ مولانا آزاد یوم پیدائش تقریب کو ریاستی سطح پر سرکاری طور پر منانے کا پر زور مطالبہ کیا گیا ۔