یوم تاسیس تلنگانہ تقاریب میں اقلیتی بہبود اور اردو زبان نظرانداز

   

وزیر اقلیتی بہبود کی عدم دلچسپی، ایک بھی علحدہ پروگرام کی منظوری نہیں

حیدرآباد۔/11 جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں اقلیتوں اور اردو زبان کی ترقی سے حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ یوم تاسیس تلنگانہ کی 21 روزہ تقاریب کے دوران اقلیتی بہبود اور اردو زبان کو یکسر فراموش کردیا گیا۔ 21 روزہ تقاریب میں ریاست کے تمام سرکاری محکمہ جات کیلئے پروگرامس طئے کئے گئے لیکن اقلیتی بہبود کے تحت ایک بھی علحدہ پروگرام نہیں کیا گیا۔ برخلاف اس کے رویندرا بھارتی میں دو دن دیگر محکمہ جات کے پروگراموں کے درمیان محفل قوالی اور ایوارڈ تقریب کا محدود وقت کے دوران انعقاد عمل میں آیا۔ یوم تاسیس تقاریب کے لوگو میں اردو تہذیب اور اردو زبان کو کوئی نمائندگی نہیں دی گئی۔ حکومت کی جانب سے یوم تاسیس کے پوسٹرس اور ہورڈنگس صرف انگریزی اور تلگو زبان میں آویزاں کئے گئے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ وزیر اقلیتی بہبود کے ایشور خود اقلیتی بہبود کے دونوں پروگراموں سے غیر حاضر رہے۔ دعوت نامہ میں اگرچہ کئی وزراء کے نام شامل تھے لیکن وزراء اور عوامی نمائندے اقلیتی بہبود کے پروگراموں سے دور رہے۔ وزیر اقلیتی بہبود نے کبھی بھی اہم پروگراموں میں شرکت نہیں کی اور ان کی زیادہ تر دلچسپی ایس سی ڈیولپمنٹ تک محدود ہے۔ متعلقہ وزیر کی عدم دلچسپی اور ایوارڈ تقریب میں عدم شرکت پر اردو داں طبقہ میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ 2015 میں یوم تاسیس تلنگانہ کی تین روزہ تقاریب میں اقلیتی بہبود کے جملہ 7 پروگرام منعقد ہوئے تھے جن میں کُل ہند مشاعرہ، کُل ہند مزاحیہ مشاعرہ، شام غزل کے دو پروگرام، محفل قوالی، مزاح نگاروں کی شام اور تمثیلی مشاعرہ شامل تھے۔ر
بی آر ایس حکومت میں گاؤں خود کفیل بن گئے: دیاکر راؤ
حیدرآباد 11 جون (سیاست نیوز) پنچایت راج اور دیہی ترقی کے وزیر ای دیاکر راؤ نے کہاکہ بی آر ایس حکومت میں گاؤں خود کفیل بن چکے ہیں۔ انھوں نے ورنگل کے مختلف مقامات پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے فنڈس کی فراہمی کے ذریعہ گرام پنچایتوں کو مستحکم کیا ہے۔ متحدہ آندھراپردیش میں گرام پنچایتوں کا بہت بُرا حال تھا۔