یوم عاشورہ کے مرکزی جلوس کیلئے بیجاپور سے ہاتھی کا انتظام

   

صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کی خصوصی دلچسپی، وقف بورڈ سے 3 لاکھ روپئے کی ادائیگی

حیدرآباد۔ 5 ستمبر (سیاست نیوز) یوم عاشورہ کے موقع پر مرکزی جلوس کے لیے ہاتھی کے انتظام پر تعطل کے دوران صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے آخرکار وقف بورڈ سے رقم ادا کرتے ہوئے ہاتھی کا انتظام کیا۔ واضح رہے کہ یوم عاشورہ کا مرکزی جلوس ہر سال ہاتھی کے ساتھ نکالا جاتا ہے اور بی بی کا علم ہاتھی پر ایستادہ ہوتا ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے ہاتھی کے استعمال پر پابندی کے بعد سے نہرو زوالوجیکل پارک کے حکام نے کسی بھی جلوس کے لیے ہاتھی فراہم کرنے سے انکار کردیا۔ ہائی کورٹ میں زیر دوران مقدمے کا بہانہ بناکر ہاتھی کی عدم فراہمی کے سبب حالیہ دنوں میں بونال اور پھر گیارہویں شریف کے جلوس کے لیے منتظمین نے اپنے طور پر بیجاپور سے ہاتھی کا انتظام کرلیا۔ علم بی بی کے جلوس کے لیے ہاتھی کے انتظام کے سلسلے میں محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے کوئی پیشرفت نہیں کی گئی جس کے سبب شیعہ کمیونٹی میں بیچینی پھیل گئی تھی۔ اس موقع پر صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے شخصی دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیجاپور میں ہاتھی کی فراہمی کے سلسلہ میں وقف بورڈ سے تین لاکھ روپئے جاری کیے۔ رقم کی اجرائی کے بعد کل رات ہاتھی بیجاپور سے حیدرآباد کے لیے روانہ ہوا ہے۔ توقع ہے کہ رات دیر گئے تک ہاتھی حیدرآباد پہنچ جائے گا اور 8 محرم کو اسے ریہرسل کے طور پر پرانے شہر کے علاقوں میں گھمایا جائے گا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جب وقف بورڈ نے علم بی بی کے جلوس کے لیے تین لاکھ روپئے ادا کیے جبکہ سابق میں یہ اخراجات محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے برداشت کیے جاتے تھے۔ شیعہ تنظیموں اور انجمنوں نے محمد سلیم سے اظہار تشکر کیا۔ اسی دوران صدرنشین وقف بورڈ نے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں کا اجلاس منعقد کرتے ہوئے کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہوں نے اوقافی جائیدادوں کی کرایہ جات کی وصولی میں کوتاہی پر ناراضگی ظاہر کی۔ محمد سلیم نے کہا کہ کرایہ کی وصولی کے سلسلہ میں روزانہ کی سطح پر رپورٹ تیار کی جائے تاکہ رینٹ کلکٹرس کی کارکردگی پر نظر رکھی جاسکے۔ انہوں نے لیگل سیکشن کے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ ہائی کورٹ میں زیر دوران مقدمات کے لیے جوابی حلف نامہ فوری داخل کریں۔ انہوں نے پہاڑی شریف میں درگاہ حضرت بابا شرف الدینؒ کے تحت موجود اوقافی اراضی کے تحفظ کے لیے نامور وکلاء کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ درگاہ کے لیے ریمپ کی تعمیر کے جلد آغاز کو یقینی بنانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ متصل اوقافی اراضی کو خانگی ادارے سے دوبارہ حاصل کیا جائے گا۔ ہائی کورٹ میں جو حکم التوا موجود ہے اس کے خلاف وقف بورڈ اپیل کی تیاری کررہا ہے۔ انہوں نے عہدیداروں سے کہا کہ وہ اپنے اپنے شعبہ جات کی کارکردگی بہتر بنانے میں کوئی کثر باقی نہ رکھیں۔