حیدرآباد/24جنوری ( سیاست نیوز ) یونائٹیڈ مسلم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو آج اس وقت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب ہائی کورٹ نے خلوت میں 25 جنوری کی شب جشن جمہوریہ اور احتجاجی مشاعرہ کیلئے شرائط عائد کردی۔ پرانے شہر کے بی جے پی لیڈر اوما مہیندر نے خلوت میں شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف پروگرام کے انعقاد کو چیلنج کرنے رٹ داخل کی تھی۔ درخواست گذار نے استدلال پیش کیا کہ چارمینار کے قریب سیاسی جماعت کے پروگرام کے انعقاد اور پولیس کی اجازت سے لااینڈ آرڈر کو خطرہ ہے۔ بھینسہ میں فرقہ وارانہ واقعات کے پیش نظر اس پروگرام کو اجازت نہ دی جائے ۔ جسٹس ٹی ونود کمار نے سماعت کے بعد احکام جاری کئے کہ احتجاجی پروگرام شام 6 تا رات 11بجے منعقد کیا جائے۔ اس کی مکمل ویڈیو گرافی کی بھی اجازت دی گئی ہے اور لا اینڈ آرڈر کی پامالی پر مقدمات درج کرنے ڈی جی پی کو ہدایت دی گئی ہے ۔ واضح رہے کہ صدر مجلس اسد الدین اویسی نے اعلان کیا تھا کہ تاریخی مکہ مسجد کے پاس 25 جنوری کی شب یوم جمہوریہ منایا جائے گا اور رات 12 بجے ترنگا پرچم کشائی ہوگی اور احتجاجی مشاعرہ بھی ہوگا۔ لیکن پولیس نے اور خلوت میں اجازت دی تھی لیکن اب ہائی کورٹ احکامات پر یونائٹیڈ مسلم جوائنٹ ایکشن کمیٹی رات 11 بجے ہی اپنے احتجاجی پروگرام کا اختتام کرنے پر مجبور ہوگئی۔