ایتھینز ۔ 8 ڈسمبر (ایجنسیز) ایتھینز میں چند فلسطینی پناہ گزینوں کا شکوہ ہے کہ یونان نے ان کی ذمہ داری تو لے لی تاہم انہیں تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔ اسی دوران چند آگے بڑھنے کی کوششوں میں بھی ہیں۔ غزہ میں زخمی ہونے والی پندرہ سالہ راغد الفرح ایتھنز میں اپنی زندگی از سر نو شروع کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہیں چلنے کے لیے بیساکھیوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ غزہ سے فروری میں یونان منتقلی کے بعد وہ اب آتھنز میں پناہ گزین خواتین کے لیے بنائے گئے ایک شیلٹر ہاؤس میں رہتی ہیں۔ راغد نے نیوز آجنسی اے ایف پی کو بتایا، میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں زندہ بچ جاؤں گی، یورپ کی سرزمین پر قدم رکھنا تو بہت دور کی بات تھی۔ یونان کی وزارتِ مہاجرت میں سیکریٹری جنرل ہیراکلس موسکوف کے مطابق راغد غزہ کے ان دس نابالغ بچوں میں شامل ہیں، جو ہڈیوں اور جوڑوں کی پیچیدہ چوٹوں اور نفسیاتی مسائل سے دوچار ہیں۔ اسرائیلی دفاعی افواج کی بمباری میں زخمی ہونے کے بعد انہیں ان کی والدہ شادیہ اور چھوٹی بہن ارغوان کے ساتھ وہاں سے نکال لیا گیا تھا۔ ان کے خاندان کے باقی افراد، تین دیگر بہن بھائی اور والد اب بھی غزہ ہی میں ہیں۔ یونانی وزارت خارجہ کے مطابق مجموعی طور پر 26 فلسطینی فروری کے آخر میں ایتھنز پہنچے تھے۔ راغد کی والدہ شادیہ نے بتایا، جب ہمیں معلوم ہوا کہ یونان نے ہمیں پناہ دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے، تو ہمیں سکون ملا۔
