نیوپنشن اسکیم کی جگہ یو پی ایس لاگو کرنے کی تجویز ، یکم / اپریل 2025 ء سے نفاذ کا منصوبہ ، ریاستوں کو بھی اطلاق کا اختیار
نئی دہلی :مرکزی حکومت نیو پنشن اسکیم (این پی سی) کی جگہ اب مرکزی ملازمین کے لیے یونیفائیڈ پنشن اسکیم (یو پی ایس) لے کر آئی ہے۔ مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے گزشتہ روز اس کی اطلاع دی۔ انہوں نے بتایا کہ کابینی میٹنگ میں اسے منظوری دی گئی۔ یو پی ایس یکم اپریل 2025 سے نافذ العمل ہوگی۔یو پی ایس سے 23 لاکھ مرکزی ملازمین کو فائدہ ہوگا۔ ملازمین کے پاس یو پی ایس یا این پی ایس میں سے کوئی بھی پنشن اسکیم منتخب کرنے کا اختیار رہے گا۔ ریاستی حکومت چاہے تو وہ بھی اسے اپنا سکتی ہیں۔ اگر ریاست کے ملازمین شامل ہوتے ہیں، تو تقریباً 90 لاکھ ملازمین کو اس سے فائدہ ہوگا۔ اس اسکیم کے نیو پنشن اسکیم اور اولڈ پنشن اسکیم سے کس طرح مختلف ہونے کے سوال پر ٹی وی سومناتھن نے جواب دیا کہ یو پی ایس پوری طرح کنٹریبیوٹری فنڈڈ اسکیم ہے، (مطلب اس میں بھی ملازمین کو این پی ایس کی طرح 10% کنٹریبیوٹ کرنا پڑے گا جبکہ اولڈ پنشن اسکیم ان فنڈڈ کنٹریبیوشنری اسکیم تھی۔ اس میں ملازمین کو کسی بھی طرح کا کنٹریبیوشن نہیں کرنا ہوتا تھا۔) لیکن این پی ایس کی طرح ہم نے اسے بازار کے بھروسے نہ چھوڑ کر فکس پنشن کی ضمانت دی ہے۔ یو پی ایس میں او پی ایس اور این پی ایس دونوں کے فوائد شامل ہیں۔ نیو پنشن اسکیم میں ملازم کو اپنی بیسک سیلری کا 10% حصہ کنٹریبیوٹ کرنا ہوتا ہے اور حکومت کا 14% کنٹریبیوٹ ہے۔ اب حکومت اپنی طرف سے ملازم کی بنیادی یافت کا 18.5% کنٹریبیوٹ کرے گی۔ ملازم کے 10% حصے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ ٹی وی سومناتھن نے بتایا کہ این پی ایس کے تحت 2004 سے اب تک ریٹائرڈ ہو چکے اور اب سے مارچ، 2025 تک ریٹائر ہونے والے ملازمین کو بھی اس کا فائدہ ملے گا۔ جو پیسہ انہیں پہلے مل چکا ہے یا وہ فنڈ سے نکال چکے ہیں، اس سے ایڈجسٹ کرنے کے بعد ادائیگی کی جائے گی۔حکومت کی طرف سے کنٹریبیوشن 14% سے 18.5% بڑھائے جانے پر پہلے سال 6250 کروڑ روپے کا اضافی خرچ آئے گا۔ یہ خرچ سال بہ سال بڑھتا رہے گا۔ کابینہ کی میٹنگ سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی نے مرکزی ملازمین کے لیڈروں کے ساتھ اپنی رہائش گاہ پر میٹنگ کی۔ وزارت عملہ نے اس کے تعلق سے 21 اگست کو ایک نوٹس جاری کیا تھا۔ یہ میٹنگ ایسے وقت پر ہوئی ہے جبکہ دو ریاستوں جموں کشمیر اور ہریانہ میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔گزشتہ 10 سال میں یہ پہلی میٹنگ رہی، جس میں وزیر اعظم اور مرکزی ملازمین کی نیشنل کونسل یعنی جوائنٹ کنسلٹیٹیو مشینری کے رکن شامل ہوئے۔ میٹنگ میں اولڈ پنشن اسکیم ، نیو پنشن اسکیم اور آٹھویں تنخواہ کمیشن کو لے کر بات چیت ہوئی۔ وزیر فینانس نرملا سیتارامن نے بھی بجٹ پیش کرتے ہوئے این پی ایس میں اصلاح کی بات کہی تھی۔ وہیں، پارلیمنٹ میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے مالیات پنکج چودھری نے جواب دیا تھا کہ حکومت او پی ایس بحالی پر کوئی غور نہیں کر رہی ہے۔ ریلوے کے بعد مرکزی ملازمین کی سب سے بڑی تنظیم آل انڈیا ڈیفنس ایمپلائی فیڈریشن نے وزیر اعظم کی میٹنگ کا بائیکاٹ کیا۔ فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری سی شری کمار نے کہا تھا کہ تنظیم وزیر اعظم مودی کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں حصہ نہیں لے گی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ میٹنگ میں او پی ایس بحالی نہیں بلکہ این پی ایس میں اصلاح کو لے کر بات چیت ہوگی۔ تنظیم پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ ملازمین کو او پی ایس ہی چاہیے۔ قارئین بتا دیں کہ فیڈریشن نے 15 جولائی کو وزارت مالیات کی میٹنگ کا بھی بائیکاٹ کیا تھا۔