جونیر اور ڈگری کالجس میں ہزاروں عہدے تقرر طلب ، عثمانیہ یونیورسٹی ٹیچرس کا سمینار
حیدرآباد۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ترجمان ڈاکٹر ڈی شراون نے تلنگانہ کی یونیورسٹیز میں وائس چانسلرس اور فیکلٹیز کی مخلوعہ جائیدادوں پر عدم تقررات کیلئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ وائس چانسلرس اور فیکلٹیز کے عدم تقررات کے نتیجہ میں یونیورسٹیز کا تعلیمی ماحول ختم ہوچکا ہے۔ شراون نے عثمانیہ یونیورسٹی ٹیچرس اسوسی ایشن کی جانب سے منعقدہ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں شرکت کی جس کا عنوان ’ تلنگانہ میں تعلیمی پالیسی اور یونیورسٹیز کی صورتحال ‘ تھا۔ ڈاکٹر شراون نے کہا کہ چیف منسٹر یونیورسٹیز کے استحکام میں غیر سنجیدہ ہیں۔ گذشتہ دو برسوں سے ٹیچنگ اسٹاف کی اہم جائیدادوں پر تقررات نہیں کئے گئے جس کے نتیجہ میں تعلیم کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف کالجس میں فیکلٹیز اور ٹیچنگ اسٹاف کی جائیدادوں پر تقررات کیلئے ٹیچرس یونین کی جانب سے بارہا نمائندگی کی گئی ۔ انہوں نے گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن سے اس معاملہ میں مداخلت کی اپیل کی جوکہ یونیورسٹیز کی چانسلر ہیں۔ عثمانیہ یونیورسٹی میں 848 جائیدادیں مخلوعہ ہیں جبکہ کاکتیہ یونیورسٹی میں 295 ، جے این ٹی یو 232، تلنگانہ یونیورسٹی 75 ، مہاتما گاندھی یونیورسٹی 115 ، ساتاواہانہ یونیورسٹی 100، پالمور یونیورسٹی 130 ، امبیڈکر اوپن یونیورسٹی 38 ، جے این اے یونیورسٹی 24 ، تلگو یونیورسٹی 97 کے علاوہ سرکاری ڈگری کالجس میں 2800 ، امدادی ڈگری کالجس میں 1500 جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ سرکاری جونیر کالجس میں 5154 جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔