یونیورسٹی آف حیدرآباد کی اراضی پر ہائی کورٹ کا حکم التواء

   

بلدیہ کو سڑک کی تعمیر سے روک دیا گیا، جواب داخل کرنے دو ہفتہ کی مہلت
حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے یونیورسٹی آف حیدرآباد کی اراضی کے سلسلہ میں حکم التواء جاری کرتے ہوئے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو مداخلت سے روک دیا ہے ۔ یونیورسٹی آف حیدرآباد نے جی ایچ ایم سی اور ریونیو عہدیداروں کے رویہ کی شکایت کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں درخواست داخل کی ۔ یونیورسٹی نے الزام عائد کیا کہ کنچا گچی باؤلی ولیج میں 18 ایکر اراضی جبراً حاصل کرتے ہوئے جی ایچ ایم سی سڑک تعمیر کر رہی ہے۔ عدالت سے درخواست کی گئی کہ وہ اراضی کے معاملہ میں مداخلت سے بلدی حکام کو روکیں ۔جسٹس ابھینند کمار شاولی نے وکیشن بنچ پر اس معاملہ کی سماعت کی۔ عدالت نے حکم التواء جاری کرتے ہوئے بلدیہ اور ریونیو کو جواب داخل کرنے دو ہفتوں کا وقت دیا ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یونیورسٹی کو قیام کے وقت چار دہے قبل 2000 ایکر اراضی الاٹ کی گئی تھی اور اسی اراضی میں بلدیہ اور ریونیو حکام مداخلت کر رہے ہیں۔ ریاستی حکومت اور اس کے دیگر محکمہ جات پہلے ہی 700 ایکر اراضی حاصل کرلی ہے۔ آئی ایس بی اور دیگر رہائشی کالونیوں کو راستہ فراہم کرنے کیلئے سڑک کی تعمیر کا منصوبہ ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ 2003 ء میں اسپورٹس سہولتوں کے فروغ کیلئے جو اراضی الاٹ کی گئی تھی اسی میں سے 18 ایکر سڑک کی تعمیر کیلئے استعمال کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ یونیورسٹی کے طلبہ نے اراضی کے تحفظ کے لئے احتجاج منظم کیا گیا تھا۔