لکھنؤ:13 فروری(سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش اسمبلی کے جمعرات سے شروع ہونے والے بجٹ اجلاس میں اپوزیشن پارٹیوں خاص طور سے سماج وادی پارٹی(ایس پی) اور کانگریس کے اراکین اسمبلی نے ایوان کے اندر اور باہر جم کر ہنگامہ کیا۔صبح 11 بجے اسمبلی کی کاروائی شروع ہونے سے تقریبا یک گھنٹہ پہلے سماج وادی پارٹی(ایس پی)اور کانگریس کے اراکین اسمبلی نے چودھری چرن سنگھ کی مورتی کے سامنے دھرنے پر بیٹھ گئے اور حکومت مخالف نعرے بازی شروع کردی ۔ لال ٹوپی پہنے سماج وادی اراکین کے ہاتھوں میں تختیاں تھیں جس پر نظم ونسق،خاتون استحصال ، بیروزگاری، شہریت (ترمیمی) قانون (سی اے اے ) اور کسانوں سے متعلق مسائل کے نعرے لکھے ہوئے تھے ۔ احتجاجی مظاہرے کی قیادت اپوزیشن لیڈر رام گوند چودھری کررہے تھے ۔ ان کے ساتھ قانون ساز اسمبلی کے رکن احمد حسن اور پارٹی کے ریاستی صدر نریش اتم پٹیل موجود تھے ۔وہیں کانگریس کے اسمبلی لیڈر آرادھنا مشرا مونا کی قیادت میں کانگریس اراکین ہاتھوں میں تختیوں کے ساتھ آلو،پیاز اور دیگر خوردنی اشیاء کی پوٹلیا لئے ہوئے تھے ۔ وہ برسراقتدار پارٹی کو مہنگائی،نظم ونسق اور بے روزگاری کے لئے مورد الزام ٹھہرا رہے تھے ۔اپوزیشن پارٹیوں کے احتجاج اور ہنگامہ اسمبلی کی کاروائی شروع ہونے کے بعد بھی جاری رہا۔ سال کا پہلا سیشن ہونے کی وجہ سے اس کا آغاز گورنر آنند بین پٹیل کے خطاب سے ہوا۔ گورنر نے دونوں ایوانوں کی مشترکہ طور سے خطاب کررہی تھیں۔ کہ اسی اثنا کانگریس اور ایس پی کے لیڈروں کے ساتھ بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی) کے لیڈر بھی احتجاج کرنے لگے ۔اپوزیشن کے اراکین کھڑے ہوکر نعرے بازی کررہے تھے ۔ زبردست ہنگامے کی درمیان گورنر کا خطاب جاری رہا۔ اسمبلی کا بجٹ سیشن سات مارچ تک چلے گا۔ اس دوران 18 فروری کی دوپہر 12:20 پر اترپردیش کا بجٹ پیش کیا جائے گا۔قابل ذکر ہے کہ چہارشنبہ کو آل پارٹی میٹنگ میں اسپیکر و وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے اسمبلی کی کاروائی مناسب ڈھنگ سے چلانے کے لئے اپوزیشن پارٹیوں سے تعاون کی اپیل کی تھی۔