نماز ادا کرنے کے بعد گھر واپسی کے دوران 3 افراد کاامام کا مجیب الرحمن پر حملہ
لکھنؤ:اتر پردیش کے باغپت ضلع میں ایک مسجد کے امام کو حال ہی میں بندوق کی نوک پر مبینہ طور پر ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا گیا۔ نعرہ لگانے سے انکار کرنے پر ان پر حملہ کیا گیا۔یہ واقعہ 18 جولائی کو پیش آیا اور اگلے دن مقدمہ درج کیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ اب تک دو افراد راہول کمار اور باغپت شہر کے جتیندر کمار کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ایک اور ملزم کی تلاش جاری ہے۔امام مجیب الرحمن نے صحافیوں کو بتایا کہ میں شام کی نماز ادا کرنے کے بعد گھر واپس آ رہا تھا کہ تین نوجوانوں نے مجھے روکا، میرے گلے میں زعفرانی اسکارف ڈالا، میری طرف ہتھیار سے اشارہ کیا اور مجھ سے جئے شری رام اور ہندوستان زندہ باد کا نعرہ لگانے کو کہا۔ جب میں نے انکار کیا تو انہوں نے مجھ پر حملہ کیا۔امام نے مزید کہا کہ اعلیٰ پولیس افسران کی مداخلت کے بعد ہی کارروائی کی گئی۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ ہم نے چہارشنبہ 19 جولائی کو پولیس سپرنٹنڈنٹ سے ملاقات کی جب کوتوالی پولیس ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہی، جو وہاں سے کچھ لوگوں کے جمع ہونے پر بھاگ گیا تھا۔پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے تینوں ملزمین کی شناخت کر لی ہے۔باغپت ضلع میں مسلمانوں کی کافی آبادی ہے۔
