ریاست کی ووٹر لسٹ میں سب سے بڑی دھوکہ دہی ، ایک ماہ میں 4.5 کروڑ ووٹروں کے نام غائب : سنجے سنگھ
لکھنؤ 14جنوری(یواین آئی)عام آدمی پارٹی (عآپ) کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے اُترپردیش میں جاری ایس آئی آر کے حوالے سے بی جے پی حکومت اورالیکشن کمیشن پرسنگین الزامات لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر کے نام پرریاست کی ووٹر لسٹ میں اب تک کی سب سے بڑی دھوکہ دہی ہوئی ہے اورایک ماہ کے اندر ساڑھے چار کروڑ ووٹروں کے نام غائب کر دیے گئے ۔ انہوں نے اسے جمہوریت اور آئین پر براہ راست حملہ قرار دیا۔ چہارشنبہ کو لکھنو میں واقع پارٹی ہیڈکوارٹرمیں منعقدہ پریس کانفرنس میں سنجے سنگھ نے کہا کہ ڈسمبر 2025 میں ریاست میں ووٹروں کی تعداد 17 کروڑ تھی لیکن ایس آئی آر کے بعد یہ تعداد کم ہوکر 12 کروڑ 55 لاکھ رہ گئی۔ انہوں نے سوال اُٹھایا کہ ساڑھے چارکروڑ ووٹرایک ماہ میں کہاں چلے گئے؟ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کے ہی ملازمین نے مقامی باڈی انتخابات کیلئے ووٹرلسٹیں تیار کی تھیں، پھر وہی ملازمین جب ایس آئی آر کرتے ہیں تو تعداد اچانک کیسے کم ہو جاتی ہے ؟۔ عآپ کے رکن پارلیمنٹ نے الزام لگایا کہ پہلے ووٹرلسٹ سے نام کاٹے گئے اور اس کے بعد وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ہر بوتھ پر 200 ووٹ بڑھانے کی بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں تقریباً 1 لاکھ 77 ہزار بوتھ ہیں یعنی بی جے پی تقریباً ساڑھے تین کروڑ ووٹ جوڑنے کی تیاری میں ہے ۔ سنجے سنگھ نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی دوسری ریاستوں سے لوگوں کولا کراترپردیش میں فرضی طریقے سے ووٹر بنوانے کی سازش کررہی ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی پہلے ووٹ کاٹنے کی لسٹ دیتی ہے اور بعد میں ووٹ جوڑنے کی فہرست لے کرآتی ہے ۔ الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کے تحت دو کروڑ 17 لاکھ لوگوں کو شفٹڈ یاناقابل تلاش زمرے میں بتایا ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان معاملات میں بھرے گئے فارم۔ 7اوربی ایل او کے ذریعے بھرے گئے فارم۔ 10کو آن لائن عام کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا دعویٰ ہے کہ46 لاکھ ووٹرمرچکے ہیں اور 25 لاکھ ووٹ ڈپلیکیٹ ہیں تو ان کا ریکارڈ بھی عوام کے سامنے رکھا جائے ، کیونکہ زندہ لوگوں کو مردہ اور مردہ لوگوں کو زندہ دکھانے کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔
