لکھنؤ ۔8 فبروری (ایجنسیز) سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے اترپردیش میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے عمل کے دوران بڑے پیمانے پر بدعنوانی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ ایجنسیاں جان بوجھ کر ان بوتھوں کو نشانہ بنا رہی ہیں جہاں ماضی میں سماج وادی پارٹی نے کامیابی حاصل کی تھی۔لکھنؤ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ دہلی، لکھنؤ اور دیگر شہروں میں بیٹھے پیشہ ور افراد پر مشتمل ایجنسیاں پورے ووٹر ڈیٹا تک رسائی رکھتی ہیں اور اسی بنیاد پر فارم7 بھر کر مخصوص بوتھوں سے ووٹروں کے نام حذف کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس عمل کے باعث کئی مقامات پر احتجاج اور بدامنی کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا کہ ایس آئی آر کے ذریعے بی جے پی پہلے ہی بہار کے انتخابات پر اثرانداز ہو چکی ہے اور اب یہی طریقہ مغربی بنگال میں آزمانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اکھلیش یادو نے کہا کہ بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو سپریم کورٹ جانا پڑا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ الیکشن کمیشن بی جے پی کا ’’سہیوگی دل‘‘ بن چکا ہے۔ انہوں نے فارم7 کے استعمال پر فوری روک لگانے اور اب تک کی گئی کارروائی کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔
سپریم کورٹ میں ایس آئی آر پر سماعت، وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا: بنگال کو بنایا جا رہا ہے نشانہ، اگلی سماعت پیر کوانہوں نے بوتھ لیول افسران کی سلامتی پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ کئی افسران کی موت کے باوجود حکومت نے کوئی مدد فراہم نہیں کی۔ اکھلیش نے اعلان کیا کہ سماج وادی پارٹی کے اراکین اسمبلی اسمبلی اجلاس میں عوامی مسائل بھرپور انداز میں اٹھائیں گے۔