نفاذ قانون کے بعد مسلم خواتین کی شکایات پر 200 ایف آئی آر درج
لکھنؤ 27 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) بیک وقت تین طلاق کو قابل سزا جرم بنانے کے لئے قانون وضع کئے جانے کے بعد اترپردیش میں تین طلاق دیئے جانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس مدت میں مسلم خواتین کی طرف سے 216 ایف آئی آر درج کروائے گئے ہیں۔ ایک سینئر پولیس عہدیدار نے کہاکہ سب سے زیادہ 26 ایف آئی آر میرٹھ میں درج کئے گئے بعدازاں سہارنپور اور شاملی میں بالترتیب 17 اور 10 مقدمات درج کئے گئے۔ مغربی اترپردیش کے ان تین علاقوں میں مسلمانوں کی قابل لحاظ آبادی ہے۔ پولیس عہدیدار نے کہاکہ ’اترپردیش میں اپنے شوہروں کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے کے لئے ایسی مسلم خواتین کثیر تعداد آگے آرہی ہے ان کے شوہروں نے بیک وقت تین طلاق دیا ہے۔ مشرقی اترپردیش میں وزیراعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقہ واراناسی میں سب سے زیادہ ایف آئی آر درج کروائی گئی ہیں۔ ایف آئی آر کی تفصیلات کے مطابق مزید جہیز کا مطالبہ، جائیداد کے جھگڑے اور گھریلو تشدد بیک وقت تین طلاق دیئے جانے کی اہم وجوہات ہیں۔ تاہم اب تک درج شدہ 200 مقدمات کے منجملہ دو تین کیسیس کے سوا دیگر مقدمات میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ اترپردیش پولیس اس قانون پر مؤثر عمل آوری کے لئے ملزمین کی گرفتاریوں کا ارادہ رکھتی ہے۔ ڈائرکٹر جنرل پولیس او پی سنگھ نے پی ٹی آئی سے کہاکہ ’اس قانون پر اُس کی روح و منشا کے مطابق عمل آوری اور مسلم خواتین کو انصاف دلانے ہم اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا تین طلاق دینے کے واقعات میں ملوث افراد کو ہنوز گرفتار کیوں نہیں کیا گیا ہے۔ چند اضلاع میں ہم یہ کام کررہے ہیں، مسلم خواتین کے لئے انصاف رسانی کو یقینی بنانے ریاستی پولیس بہت جلد اقدامات کے اثرات کا جائزہ لے گی۔